ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت پہلی بار 5 لاکھ روپے سے تجاوز کر جانے سے ملکی صرافہ مارکیٹ میں غیر معمولی صورتحال دیکھنے میں آئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے بعد پاکستان کی سونے کی مارکیٹ بھی شدید دباؤ کا شکار نظر آئی، جہاں ایک ہی دن کے دوران قیمتوں میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اچانک اضافے نے جہاں سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا ہے وہیں عام شہریوں میں تشویش اور بے چینی بھی پیدا کر دی ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج بدھ کے روز فی تولہ سونے کی قیمت میں 12 ہزار 700 روپے کا بڑا اضافہ ہوا، جس کے بعد ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 5 لاکھ 6 ہزار 362 روپے تک جا پہنچی۔ یہ اضافہ پاکستانی سونے کی مارکیٹ کی تاریخ میں ایک دن کے دوران ہونے والا سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے صرافہ بازار میں ہلچل مچا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں سونا مہنگا یا سستا ؟ آج کی قیمتیں جاری
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آج 10 گرام سونا 10 ہزار 888 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 34 ہزار 123 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جو ملکی تاریخ میں پہلی بار سوا 4 لاکھ روپے سے تجاوز کرنے کی مثال ہے۔ قیمتوں میں یہ تیزی نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ زیورات خریدنے والے عام افراد کے لیے بھی باعثِ تشویش بن گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل کشیدگی اور مختلف ممالک کے سینٹرل بینکوں کی پالیسیوں نے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں آج فی اونس سونے کی قیمت 127 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 840 ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ اسی دوران چاندی کی فی تولہ قیمت بھی 64 روپے اضافے کے بعد 9 ہزار 933 روپے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی۔
امریکا میں فروری ڈیلیوری کے لیے گولڈ فیوچرز کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں یہ تقریباً 4 ہزار 813 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتی رہیں۔ سونے اور چاندی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مارکیٹ میں طلب بڑھانے کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ملکی مارکیٹ بلکہ عالمی سطح پر بھی قیمتی دھاتوں کی بڑھتی ہوئی طلب اور سرمایہ کاری کے رجحان کی واضح عکاسی کرتی ہے۔




