کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 80 فیصد قابو پالیا گیا، آتش زدہ پلازہ سے مزید 3 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 9ہوگئی۔
ریسکیو حکام نے عمارت انتہائی پرانی ہونے کے باعث گرنےکا خدشہ ظاہر کردیا۔
ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب گل پلازہ میں لگنے والی آگ تاحال مکمل طور پر نہ بجھائی جا سکی، گراؤنڈ فلور پرلگنے والی آگ دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچ گئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ کی وجہ سے عمارت کے پلرز کم زور ہوگئے ہیں، متعدد دراڑیں پڑ گئی ہیں، عمارت انتہائی پرانی ہونے کے باعث گرنے کا خدشہ ہے۔
لوگ بے بسی کی تصویر بنے ہفتے کی رات سوا 10 بجے سے جلتی ہوئی عمارت کے باہر کھڑے اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اہل خانہ سے لاپتہ افرادکےموبائل نمبر حاصل کرلیے ہیں ، 20 سے زائد افراد کی لوکیشن گل پلازہ کی آئی ہے۔
حکام کے مطابق آگ پر 80 فیصد قابو پانے کے بعد فائر فائٹرز پلازہ کے اندر داخل ہوئے ۔ ریسکیو عملے نے تھرمل کیمرے لگائے۔
جلی ہوئی دکانوں میں محدود پیمانے کا سرچ آپریشن کیا گیا جہاں ریسکیو ورکرز صدائیں لگا لگا کر زندگی کے نشان ڈھونڈتے رہے مگر جلی ہوئی عمارت کے اندر ان صداؤں پر لبیک کہنے والا کوئی نہ مِلا۔
ادھرپلازہ میں لگنے والی آگ سے متعلق حکام کی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گل پلازہ میں ہنگامی اخراج کی جگہ نہیں تھی، عمارت میں آگ سے نمٹنے کے لیےانتظامات بھی نہیں تھے جبکہ تنگ داخلی وخارجی راستوں کے باعث فائر فائٹنگ میں تکنیکی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1995 میں تعمیر ہونے والی عمارت ابتدائی طور پر بیسمنٹ،گراؤنڈ اور پہلی منزل تک تھی۔
رپورٹ کے مطابق 2003 تک مختلف اوقات میں 3 فلورز تعمیرکیےگئے، عمارت میں 500 دکانوں کی گنجائش تھی لیکن دکانوں کی تعداد 500 سے بڑھ کر 1200 ہوگئی تھی۔
الیکٹرانکس ڈیلرز کا سانحہ گل پلازہ پر آج یوم سوگ کا اعلان
صدرالیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن رضوان عرفان نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ سے اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ دکاندار اور ان کے ورکر تاحال عمارت میں ہیں۔
صدر الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ آج سوگ میں مارکیٹیں بند رہیں گی اور دکانداروں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔




