ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیوں نہیں کیا؟ امریکی میڈیا نے نیا دعویٰ کردیا

امریکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ اسرائیل کے راکٹس ختم ہونے کی وجہ سے روکا۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ بدھ 14 جنوری کی صبح مشرقِ وسطیٰ اور واشنگٹن میں یہ تاثر مضبوط ہو چکا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف سخت فضائی حملوں کی منظوری دینے والے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کی بڑی کارروائی، بھارتی بحری جہاز پکڑ لیا،16 اہلکار گرفتار

یہ حملہ امریکی فوجی طاقت کے دوسرے بڑے استعمال کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، اس سے قبل امریکا کی خصوصی ڈیلٹا فورسز نے وینزویلا میں جرات مندانہ کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا تھا۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر حملوں کا حکم نہیں دیا تھا، تاہم ان کے اعلیٰ سیکیورٹی مشیروں کو توقع تھی کہ وہ پیش کیے گئے فوجی آپشنز میں سے کسی ایک کی جلد منظوری دے دیں گے، جس کے باعث رات گئے تک سرگرمیوں کے لیے تیاری کی جا رہی تھی۔

اسی دوران پینٹاگون نے اعلان کیا کہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس روزویلٹ خلیج فارس میں داخل ہو چکا ہے۔

معاملے سے واقف ایک شخص کے مطابق امریکی اتحادیوں کو ممکنہ حملے سے آگاہ کر دیا گیا تھا، جبکہ بحری جہاز اور طیارے حرکت میں آ چکے تھے۔

قطر میں واقع وسیع امریکی فضائی اڈے العدید پر موجود عملے کو ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر انخلا کا مشورہ دیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے منگل کی صبح سوشل میڈیا پر ایرانی مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مدد راستے میں ہے اور انہیں ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کی ترغیب دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ خود کیا، کسی نے قائل نہیں کیا،ٹرمپ

متعدد امریکی اور غیر ملکی حکام نے اس بیان کو فوجی مداخلت کا اشارہ سمجھا، تاہم صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ ڈالنے کے دیگر راستوں پر بھی غور کر رہے تھے تاکہ مظاہرین کے قتل کو روکا جا سکے۔

اہم موڑ بدھ کو آیا جب صدر ٹرمپ کو خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ذریعے اطلاع ملی کہ ایرانی حکومت نے 800 افراد کی مجوزہ پھانسیوں کو منسوخ کر دیا ہے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ہم دیکھیں گے اور انتظار کریں گے۔ بعد ازاں جمعرات کو امریکی انٹیلی جنس نے تصدیق کی کہ پھانسیاں عمل میں نہیں آئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کے اس اچانک فیصلے نے ان کے کئی مشیروں کو حیران اور ایران مخالف عناصر کو مایوس کیا تھا۔

درجن سے زائد موجودہ اور سابق امریکی و مشرقِ وسطیٰ کے عہدیداروں کے مطابق یہ فیصلہ اندرونی اور بیرونی دباؤ، سفارتی رابطوں اور فوجی تیاریوں کے تناظر میں کیا گیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑا کہ ایک اور مشرقِ وسطیٰ کے ملک کو غیر مستحکم کرنا غیر متوقع نتائج کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ امریکی فوجی طاقت کی بھی حدود ہیں۔

امریکی اخبارمیں لکھا گیا کہ پینٹاگون کے عہدیداروں کو تشویش تھی کہ صدر کے حکم پر کیریبین میں طیارہ بردار بحری بیڑا بھیجنے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فائر پاور مطلوبہ حد سے کم ہو چکی ہے، جو ممکنہ بڑے ایرانی جوابی حملے کے لیے ناکافی ہو سکتی ہے۔

ایک موجودہ اور ایک سابق امریکی عہدیدار کے مطابق اس بات پر اسرائیل نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا کیونکہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو روکنے کے لیے اسرائیل نے بڑی تعداد میں انٹرسیپٹر راکٹ استعمال کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے ایران پر حملےکا فیصلہ آخری لمحوں میں کیوں تبدیل کیا؟ برطانوی اخبارکا بڑا دعویٰ

سعودی عرب، قطر اور مصر سمیت اہم امریکی اتحادیوں نے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کر کے تحمل اور سفارت کاری پر زور دیا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حکام کے مطابق آئندہ دو سے تین ہفتوں میں صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف کارروائی کی دوبارہ منظوری کا موقع مل سکتا ہے۔

Scroll to Top