پنیر دنیا بھر میں بے حد مقبول غذائی جزو ہے اور مختلف کھانوں میں بطور مرکزی جزو استعمال کیا جاتا ہے۔ چاہے سینڈوچ ہو، پیزا، پاستا یا سلاد، پنیر نہ صرف ذائقہ بڑھاتا ہے بلکہ غذائیت سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق پنیر یعنی ’چیز‘ میں پروٹین، چکنائی، کیلشیم، فاسفورس، پوٹاشیم اور وٹامن بی 12 پایا جاتا ہے، جو صحت مند غذا کے اہم عناصر سمجھے جاتے ہیں۔
طبی اور غذائی مواد کے مطابق اگرچہ پنیر کو مکمل طور پر دماغ یا جسم کی تمام بیماریوں سے تحفظ کا ذریعہ قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم یہ کچھ حد تک مجموعی صحت اور بالخصوص دماغی و اعصابی نظام کے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ پنیر میں موجود وٹامن بی 12 اعصابی خلیات کے لیے ضروری ہے اور یادداشت اور توجہ میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح پروٹین اور امینو ایسڈز دماغی کیمیکلز بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ کیلشیم اعصابی سگنلز کی ترسیل میں مدد دیتا ہے۔ صحت مند چکنائیاں دماغی خلیوں کی ساخت کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بالغ افراد کو روزانہ تقریباً 1000 ملی گرام کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ سخت پنیر جیسے چیڈر ایک اونس میں تقریباً 200 ملی گرام کیلشیم فراہم کرتا ہے، جو روزانہ کی ضرورت کا پانچواں حصہ بنتا ہے۔ کیلشیم نہ صرف ہڈیوں بلکہ پٹھوں، خون کی گردش اور اعصابی نظام کے لیے بھی ضروری ہے۔
دہی کو عام طور پر پروبائیوٹکس کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم چیڈر، سوئس اور کاٹیج پنیر میں بھی مفید بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں، جو معدے کی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ متعدد اسٹڈیز کے مطابق پنیر کھانے سے دانتوں اور مسوڑھوں کی صحت بہتر ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
اگرچہ پنیر میں سیر شدہ چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اسی وجہ سے اسے تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے، تاہم ایک تحقیق کے مطابق متوازن مقدار میں پنیر کھانے والے افراد میں کولیسٹرول کی سطح بہتر رہتی ہے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ دل کی صحت کے لیے خاص طور پر خمیر شدہ ڈیری مصنوعات جیسے دہی اور پنیر کو زیادہ فائدہ مند قرار دیا گیا ہے۔ کچھ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ معتدل مقدار میں ڈیری مصنوعات استعمال کرنے والے افراد میں عمر کے ساتھ ذہنی کمزوری کا خطرہ قدرے کم ہو سکتا ہے۔
تاہم روزانہ پنیر کھانے کے ممکنہ نقصانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پنیر میں سوڈیم شامل کیا جاتا ہے تاکہ یہ خراب نہ ہو اور ذائقہ بہتر رہے، مگر زیادہ نمک خون کے دباؤ اور دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک اونس چیڈر پنیر میں تقریباً 180 ملی گرام سوڈیم پایا جاتا ہے۔ اسی طرح لیکٹوز انٹالیرنس کے شکار افراد کو پنیر ہضم کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے، البتہ سخت اور پرانا پنیر عام طور پر کم لیکٹوز رکھتا ہے جسے یہ افراد بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اعتدال کے ساتھ مختلف اقسام کا پنیر روزانہ کھایا جا سکتا ہے۔ چیڈر، موزریلا، سوئس اور کاٹیج پنیر زیادہ عام اور غذائیت سے بھرپور سمجھے جاتے ہیں۔ امریکی محکمۂ زراعت کے مطابق 2000 کیلوریز والی روزانہ کی غذا میں ڈیری گروپ کی تین سَروِنگز شامل ہونی چاہئیں، جن میں پنیر کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔




