کشمیری عوام پاکستان کے پرچم میں دفن ہونا باعثِ فخر سمجھتے ہیں، صدرانجمن تاجران ایکشن کمیٹی پر برس پڑے

انجمن تاجران کے صدر عبد الرزاق خان نے ایکشن کمیٹی اور موجودہ رویّوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام پاکستان کے پرچم میں دفن ہونا باعثِ فخر سمجھتے ہیں، ایکشن کمیٹی نے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا، بلکہ کشمیری عوام دنیا بھر میں اپنے بڑے نام اور پاکستان سے وابستگی کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ مزید کہاکہ پاکستان ہے، اس کی فوج ہے، تو کشمیری ہیں۔

عبد الرزاق خان نے کہا کہ قطر کے پاس دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے مگر اس کی فوج نہیں، ایٹم بم نہیں، جبکہ پاکستان کی فوج اور دفاعی طاقت کشمیری عوام کی اصل طاقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر بھی بتا چکے ہیں کہ افغانستان میں بھارت شامل ہے اور یہ پاکستان کے دشمن ہیں، دونوں مل کر آ جائیں ان کو نانی کا دودھ یاد دلا دیں گے۔

عبد الرزاق خان نے ایک واقعہ دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے آنے والی سیاح بچیوں کو بچانے کے لیے ایک مقامی پکوڑے فروش نے اپنی جان دے دی، یہی کشمیری عوام کی اصل پہچان ہے۔ ان کے مطابق کشمیری عوام ایسے لوگ ہیں، مگر افسوس کہ موجودہ رویّے اس تصویر کو مسخ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں سونا مزید مہنگا یا سستا ؟ آج کے تازہ نرخ جاری

انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی رائے دے تو نیچے سے گالم گلوچ شروع ہو جاتی ہے، گالم گلوچ بریگیڈ حرکت میں آ جاتی ہے اور اکثر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے بدتمیزی کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دوسری جانب سے بھی ردعمل آتا ہے۔

عبد الرزاق خان نے سوال اٹھایا کہ ایسے رویّوں کے ساتھ پاکستان کی عوام کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری وفادار ہیں، کشمیری پاکستان کے جھنڈے میں دفن ہونا پسند کرتے ہیں، مگر گالم گلوچ اور بدتمیزی ہمیں کہاں لے جا رہی ہے۔

انہوں نے ایکشن کمیٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں دیکھیں، ٹریڈ آرگنائزیشن میں وہ پہلے ہی ناکام ہو چکے ہیں۔ مظفرآباد میں پورے علاقے میں کوئی عوامی ٹوائلٹ موجود نہیں، جبکہ پچھلے دو سالوں سے سیاحت پر پڑنے والے اثرات کے باعث ٹورزم مکمل طور پر فلاپ ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت عوامی ایکشن کمیٹی سے نمٹنے کیلئے سخت پالیسی لارہی ہے،جاوید بٹ

عبد الرزاق خان نے کہا کہ یہ سب کچھ دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیا پیغام دے رہے ہیں، اختلافِ رائے برداشت کرنے کے بجائے گالم گلوچ کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے۔

آخر میں انہوں نے اپیل کی کہ خدارا ان چیزوں سے اجتناب کیا جائے، کیونکہ جعلی آئی ڈیز سے گالم گلوچ کا جواب ہمیشہ دوسری جانب سے بھی آتا ہے اور اس کا نقصان پوری کشمیری قوم کی ساکھ کو پہنچتا ہے۔

Scroll to Top