ہیروئن برآمدگی:لندن میں سزا پانے والی سدرہ نوشین کے بارےاہم انکشافات سامنے آ گئے

لندن میں ہیروئن کی برآمدگی کے مقدمے میں 21 سال قید کی سزا پانے والی پاکستانی خاتون سدرہ نوشین کے معاملے میں ایک نہایت حساس اور اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد یہ کیس ایک بار پھر سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر شدید بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مختلف ویڈیوز اور تصاویر کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سدرہ نوشین کا تعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے رہا ہے اور انہیں برطانیہ میں عمران خان کی حمایت میں نکالے جانے والے جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں میں مسلسل دیکھا گیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ سدرہ نوشین نہ صرف ان سیاسی سرگرمیوں میں شریک رہتی تھیں بلکہ وہ پی ٹی آئی کے مظاہروں کا باقاعدہ اہتمام بھی کیا کرتی تھیں۔ وائرل دعوؤں کے مطابق ان مظاہروں کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے الزامات بھی سدرہ نوشین سے منسوب کیے جا رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے ساتھ متعدد تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں، جن کے باعث یہ معاملہ مزید حساس ہو گیا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

ہیروئن اسمگلنگ کے باعث سدرہ نوشین کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طرح کا کہرام مچ گیا ہے۔ صارفین کی بڑی تعداد نے اس واقعے کو پاکستان کی عالمی ساکھ سے جوڑتے ہوئے تبصرے کیے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا پاسپورٹ عالمی سطح پر ڈی ویلیو ہونے کی وجہ بھی ایسے ہی واقعات ہیں۔ صارفین کے مطابق پاکستانیوں کو بیرونِ ملک ویزے نہ ملنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی سے منسوب بیرونِ ملک سرگرمیاں اور منفی کارنامے پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فرانزک لیب رپورٹ: 9مئی ہنگامہ آرائی میں اہم پی ٹی آئی رہنماؤں کی موجودگی کی تصدیق

واضح رہے کہ سدرہ نوشین کو 23 دسمبر کو برطانوی عدالت کی جانب سے سزا سنائی گئی تھی۔ عدالتی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ ہیروئن کپڑوں میں چھپا کر بریڈفورڈ میں واقع سدرہ نوشین کے گھر پہنچائی جاتی تھی۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق وہاں سے وہ ہیروئن کے ایک، ایک کلو کے پیکٹ تیار کرتی تھیں، جنہیں بعد ازاں خفیہ طریقوں سے مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سدرہ نوشین ایک منظم جرائم پیشہ گروہ کا حصہ تھی اور برطانیہ بھر میں ہیروئن کی فروخت میں ملوث رہی۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملزمہ کے بیرونِ ملک روابط کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جو اس منظم نیٹ ورک کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہی شواہد کی بنیاد پر برطانوی عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سخت سزا کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ دوسری جانب پاکستان کے اندر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر بھی ہیروئن اور منشیات اسمگلنگ کے الزامات لگ رہے ہیں، جس کے بعد منشیات سے متعلق معاملات ایک بار پھر خبروں اور سوشل میڈیا پر زیر بحث آ گئے ہیں۔

Scroll to Top