ٹیرف

ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ خود کیا، کسی نے قائل نہیں کیا،ٹرمپ

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل نہیں کیا۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا عرب اور اسرائیلی حکام نے آپ کو ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کیا؟

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران پر حملےکا فیصلہ آخری لمحوں میں کیوں تبدیل کیا؟ برطانوی اخبارکا بڑا دعویٰ

جس پر صدر ٹرمپ نے برملا کہا کہ تاحال حملہ نہ کرنے کا فیصلہ انہوں نے کسی کے دباؤ یا تجویز پر نہیں بلکہ ذاتی طور پر لیا اور اس کی ایک اہم وجہ بھی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے خود کو قائل کیا۔ ایران نے کل 800 سے زائد گرفتار مظاہرین کو پھانسی دینے کا اعلان کیا تھا لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جب ایران نے یہ پھانسیاں منسوخ کر دیں تو میں نے بھی حملے کرنے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی تھی۔

یہ بیان صدر ٹرمپ کی جانب سے اب تک کا سب سے واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایران میں مظاہرین کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے تناظر میں فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے مظاہرین کو قتل کیا تو امریکا فوجی کارروائی کرے گا۔

بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ایرانی حکام نے آگاہ کیا ہے کہ مظاہرین کے قتل کا سلسلہ روک دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں وائٹ ہاؤس نے بھی دعویٰ کیا کہ بدھ کو متوقع 800 سزائے موت منسوخ کر دی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کی صورتحال پر عالمی طاقتوں کی سلامتی کونسل میں گرما گرم بحث

تاہم اس حوالے سے ابہام بھی پایا جاتا ہے کیونکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے سزاؤں کی تاریخ بدھ بتائی تھی جبکہ صدر ٹرمپ نے بعد میں جمعرات کا ذکر کیا۔

یاد رہے کہ ایران نے 800 مظاہرین کو پھانسی دینے کے منصوبے کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں کی ہے۔

واضح رہے کہ ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق اب تک 3,428 مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

Scroll to Top