چابہار

امریکی پابندیوں میں اضافے کے بعد ہندوستان کا چابہار بندرگاہ سے انخلاء

چابہار (کشمیر ڈیجیٹل نیوز) بھارت نے جغرافیائی اور اقتصادی طور پر اہم ایرانی بندرگاہ چابہار سے باضابطہ طور پر اپنی شراکت ختم کر دی ہے۔ ہندوستان نے یہ اقدام امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے نتیجے میں اٹھایا ہے ۔

نئی دہلی نے پہلے ہی 120 ملین ڈالر ادا کر دیے تھے، جو ایران کو پابندیوں کے نفاذ سے پہلے دینے تھے ۔ اب بھارت نے بندرگاہ پر اپنی آپریشنل شمولیت مکمل طور پر ختم کر دی ہے ۔

بھارت کے پیچھے ہٹنے کے بعد، ایرانی حکام اس رقم کو کسی بھارتی پارٹنر کے بغیر بندرگاہ کے انتظام اور ترقی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں ۔ چابہار بندرگاہ کو افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کے لیے ایک اہم دروازہ سمجھا جاتا تھا، جس سے پاکستان کے راستے کو نظرانداز کیا جا سکتا تھا ۔

امریکی پابندیوں کے اثرات کے نتیجے میں، انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے بورڈ پر حکومت کے نمائندے بھی مستعفی ہو گئے، جو بندرگاہ کی ترقی اور آپریشن کے ذمہ دار پبلک سیکٹر کمپنی ہے ۔ مزید برآں، IPGL کی آفیشل ویب سائٹ کو بھی غیر فعال کر دیا گیا، جو بھارت کی شمولیت ختم ہونے کی تصدیق کرتی ہے ۔

ماہرین کے مطابق، ایران اب چابہار بندرگاہ کو چلانے کے لیے یا تو اپنے وسائل استعمال کرے گا یا نئے بین الاقوامی شراکت دار تلاش کرے گا۔ اس دوران، اقتصادی دباؤ بڑھ رہا ہے، کیونکہ یہ منصوبہ خطے میں ایران کے تجارتی اثر و رسوخ کے لیے بہت اہم تھا ۔

Scroll to Top