اسلام آباد ہائیکورٹ نے دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر اہم حکم جاری کرتے ہوئے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو فوری طور پر درختوں کی کٹائی سے روک دیا ہے۔
یہ حکم اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے شہری محمد نوید احمد کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ متعلقہ ادارے کی جانب سے درختوں کی کٹائی کی جا رہی ہے، جس پر عدالت نے ابتدائی طور پر معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی آگے بڑھائی۔ سماعت کے دوران عدالت نے درختوں کی کٹائی کے عمل کو فوری طور پر روکنے کا حکم جاری کیا اور اس معاملے میں ذمہ دار اداروں کو جواب دہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پٹہکہ کیس:عدالت نے مرکزی ملزم کو سزائے موت سنا دی
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس موقع پر سی ڈی اے کے ساتھ ساتھ پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اور وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کو بھی باضابطہ نوٹس جاری کر دیے۔ عدالت نے حکم دیا کہ تمام فریقین اس درخواست کے حوالے سے اپنی اپنی ذمہ داریوں اور مؤقف کی وضاحت کریں۔
عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کو ہدایت کی کہ وہ دو فروری تک درخواست پر شق وار جواب جمع کروائیں۔ اس کے علاوہ عدالت نے معاملے سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے تاکہ درختوں کی کٹائی کے معاملے پر مکمل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں کیمیکل ملا دودھ اور جعلی فوڈز پر اہم سماعت
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے اس حکم میں واضح کیا گیا کہ عدالتی اجازت کے بغیر درختوں کی کٹائی کا کوئی بھی عمل قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ رپورٹ میں اس بات کی مکمل تفصیل فراہم کی جائے کہ درختوں کی کٹائی کن وجوہات کی بنیاد پر کی جا رہی تھی اور اس ضمن میں کون کون سے اقدامات کیے گئے۔




