ایران نے اپنی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کے لیے عارضی طور پر بند کر دی ہیں۔ جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق یہ پابندی تمام اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک پروازوں پر لاگو ہو گی، تاہم بین الاقوامی پروازوں کو خصوصی اجازت کے ساتھ ایرانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد موجودہ صورتحال کے پیش نظر فضائی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
ابتدائی طور پر یہ ایڈوائزری سوا دو گھنٹے کے لیے جاری کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اس کی مدت میں مزید تین گھنٹے کی توسیع کر دی گئی۔ یہ ایڈوائزری پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے آٹھ بجے تک مؤثر رہے گی۔ اس دوران ایئرلائنز اور مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پروازوں سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے متعلقہ حکام اور ایئرلائنز سے رابطے میں رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر ممکنہ امریکی حملہ پر خطہ ہائی الرٹ ، سعودی عرب نے اہم فیصلہ کرلیا
ادھر ایران میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں امریکا کے بعد اسپین، پولینڈ اور اٹلی نے بھی اپنے شہریوں کو ایران فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ان ممالک کی جانب سے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے اور جلد از جلد ایران سے روانگی کے اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
اسی دوران ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل نے حملے میں پہل نہ کرنے کا یقین دلایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو خفیہ پیغامات کے ذریعے یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ پہلے حملہ نہیں کریں گے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس عمل میں روس نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شہزادی لیونور 150 سال بعد اسپین کی پہلی ملکہ بننے کیلئے تیار
مزید برآں امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں قطر اور عمان نے ایران پر امریکی حملے کی مخالفت کی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں امریکی بمبار طیارے طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائل استعمال کر سکتے ہیں۔




