امریکا 24گھنٹوں میں ایران پر حملہ کرسکتا ہے، برطانوی خبررساں ایجنسی

ایران میں احتجاجی مظاہروں اور امریکی صدر کی  دھمکیوں کے باعث بڑھتی کشیدگی کے دوران غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آئندہ 24 گھنٹوں میں ایران میں مداخلت کرسکتا ہے۔

خطے میں تیزی سے بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں سے بعض اہلکاروں کا بھی انخلا شروع کر دیا ہے جسے ممکنہ امریکی حملے کی واضح پیشگی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں مظاہروں کے باوجود حکومت مستحکم، برطانوی میڈیا رپورٹ

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر اٹھایا گیا ہے کیونکہ ایران نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایک اور امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث خطے کے اہم فوجی اڈوں سے کچھ عملہ واپس بلایا جا رہا ہے، اسی تناظر میں برطانیہ بھی قطر میں واقع ایک فضائی اڈے سے اپنے بعض اہلکار نکال رہا ہے۔

ایک مغربی فوجی عہدیدار نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ ’تمام اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی حملہ جلد ہوسکتا ہے۔

دو یورپی عہدیداروں نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ امریکی فوجی مداخلت آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ہو سکتی ہے جبکہ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے اگرچہ اس مداخلت کے دائرہ کار اور وقت کے بارے میں حتمی وضاحت موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہم آرہے ہیں،ملکی اداروں کا کنٹرول سنبھال لو؛ ٹرمپ کا ایرانی مظاہرین کو پیغام

قطر نے بھی تصدیق کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے، العدید ائیر بیس، سے عملے میں کمی ’موجودہ علاقائی کشیدگی‘ کے باعث کی جا رہی ہے۔

Scroll to Top