مظفرآباد: سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر میں آج مظفرآباد شہر میں کیمیکل ملا دودھ، جعلی آئس کریم اور فروزن فوڈز کے حوالے سے ایک اہم سماعت ہوئی۔
یہ سماعت معروف سوشل ایکٹوسٹ شاہد زمان اعوان بنام آزاد حکومت کیس کے سلسلے میں کی گئی، جس میں عوامی صحت اور خوراک کے معیار سے متعلق سنگین امور زیرِ بحث آئے۔ سماعت کے دوران فوڈ اتھارٹی مظفرآباد کے اعلیٰ حکام، میئر بلدیہ، ڈپٹی کمشنر مظفرآباد اور دیگر متعلقہ افسران عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مظفرآباد شہر میں عوام کو کیمیکل ملا دودھ، جعلی آئس کریم اور غیر معیاری فروزن فوڈز فروخت کیے جا رہے ہیں، جس سے شہریوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس موقع پر متاثرہ بزنس مین ہارون الرشید بھی موجود تھے، جنہوں نے ان مصنوعات کے باعث ہونے والے نقصانات کی نشاندہی کی۔ سماعت کے دوران معروف قانون دانوں کی گفتگو بھی عدالت کے سامنے آئی، جبکہ کیس میں عوامی مفاد اور انسانی زندگیوں کے تحفظ پر زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ بار آزادکشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی کیساتھ معاہدے پرحکومتی اقدامات باعث اطمینان قرار
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر نے فوڈ اتھارٹی کے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔ چیف جسٹس نے کہا: “آپ نے لوگوں کو مردہ گوشت کھانے کا لائسنس دے رکھا ہے۔ آپ مکمل طور پہ فیل ہوچکی ہیں۔” عدالت میں یہ بھی کہا گیا: “آپکا ٹرائل کریں گئے کیوں نہ آپکو ہتھکڑیاں لگوا دی جائیں۔ انسانی زندگیوں کے ساتھ کسی کو نہیں کھیلنے دیں گئے۔” چیف جسٹس کے ان ریمارکس سے سماعت کا ماحول سنجیدہ اور حساس ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آزادکشمیر ؛ جسٹس خالد یوسف نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا
عدالت نے فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوامی صحت سے متعلق معاملات میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔




