مقبوضہ کشمیر میں مسلم طلبا سے تعلیم کا حق چھین لیا گیا، ہندوتوا تعصب بے نقاب

مقبوضہ کشمیر میں مسلم طلبا سے تعلیم کا حق چھینے جانے کا معاملہ ایک بار پھر سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں مذہبی تعصب کی بنیاد پر مسلم نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیمی مواقع سے محروم کرنے کے اقدامات سامنے آئے ہیں۔

بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں انتہا پسند ہندوتوا نظریے پر کاربند بھارتی ریاست نے مسلم طلبا کے مستقبل کو تاریک کرنے کے لیے ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے میرٹ پر منتخب ہونے کے باوجود انہیں میڈیکل تعلیم سے محروم کر دیا ہے۔ یہ اقدام مقبوضہ کشمیر میں پہلے سے موجود تعلیمی عدم مساوات کو مزید گہرا کرتا دکھائی دیتا ہے۔

اس فیصلے پر مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے بی جے پی کے مذہبی تعصب پر مبنی طرزِ عمل کو بے نقاب کیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ انتہا پسند بی جے پی نے میرٹ پر منتخب ہونے والے مسلمان طلبا سے ڈاکٹر بننے کا حق چھین لیا ہے، جو نہ صرف بھارتی آئین بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام کسی تعلیمی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ واضح امتیازی سوچ کے تحت کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اجیت ڈوول کے بیان ’تاریخ کا بدلہ‘ پر بھارت میں شدید بحث، اپوزیشن اور سول سوسائٹی کا سخت ردعمل

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے مطابق ماتا وشنو دیوی میڈیکل یونیورسٹی میں مسلمان طلبا نے ایم بی بی ایس کا انٹری امتحان کامیابی سے کلیئر کیا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں داخلے نہیں دیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر 50 نشستوں میں سے 42 نشستوں پر مسلمان طلبا میرٹ پر منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد جان بوجھ کر میڈیکل پروگرام کو ہی منسوخ کر دیا گیا، تاکہ مسلم طلبا کو میڈیکل تعلیم سے دور رکھا جا سکے۔

عمر عبداللہ نے مزید انکشاف کیا کہ بی جے پی سے وابستہ عناصر نے یہاں تک کہا کہ ’یہ تو ماتا کا پیسہ ہے، مسلمانوں پر نہیں لگ سکتا‘، جو کھلے عام مذہبی نفرت، تعصب اور امتیازی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بیان اس فیصلے کے پس منظر میں کارفرما ذہنیت کو واضح کرتا ہے۔

بھارتی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے بھی ماتا وشنو دیوی یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس پروگرام کی منسوخی کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے رپورٹ کیا کہ سہولیات کے فقدان کا بہانہ بنا کر میڈیکل پروگرام ختم کیا گیا۔ تاہم فیکلٹی ممبران اور طلبا کے مطابق یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم جاری رکھنے کے لیے تمام ضروری سہولیات موجود تھیں، جو اس فیصلے پر مزید سوالات کھڑے کرتی ہیں۔

بھارتی جریدے ’دی ہندو‘ کے مطابق مسلمان طلبا سے ڈاکٹر بننے کا حق چھیننے پر ہندوتوا انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے خوشیاں منائی گئیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ فیصلہ تعلیمی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالصتاً مذہبی تعصب کی بنیاد پر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر کی وادی شکسگام پر چین بھارت میں شدیدکشیدگی

مبصرین کے مطابق ہندوتوا نظریے پر کاربند بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کو مذہب کی بنیاد پر تعلیم سے دور رکھنا سفاکیت اور ریاستی جبر کی بدترین مثال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلم طلبا کے تعلیمی حقوق کی اس طرح پامالی، پہلے سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ ہے۔

Scroll to Top