امریکی فوجی نیٹ ورکس میں گروک اے آئی شامل کرنے کا اعلان

امریکی فوجی نیٹ ورکس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں امریکا نے اپنے فوجی نیٹ ورکس میں ایلون مسک کے مصنوعی ذہانت پلیٹ فارم “گروک اے آئی” کو شامل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دنیا بھر میں جدید جنگی حکمتِ عملی میں ٹیکنالوجی کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ریاستیں دفاعی میدان میں جدت کو ناگزیر سمجھ رہی ہیں۔

یہ اعلان امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے اسپیس ایکس کے دورے کے دوران کیا گیا۔ دورے کے موقع پر یہ واضح کیا گیا کہ امریکی فوج اپنے نظاموں میں جدید مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کی جانب عملی اقدامات کر رہی ہے۔ بیان کے مطابق یہ فیصلہ امریکا کی نئی اے آئی ایکسیلریشن اسٹریٹیجی کا حصہ ہے، جس کا مقصد جدید جنگی ٹیکنالوجی میں امریکا کی برتری کو برقرار رکھنا ہے۔

حکام کے مطابق گروک اے آئی کو فوجی نیٹ ورکس میں شامل کرنے کا یہ اقدام اس وسیع تر حکمتِ عملی سے جڑا ہوا ہے جس کے تحت امریکا اپنے دفاعی نظام کو مستقبل کے چیلنجز کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے۔ اس حکمتِ عملی میں جدید ٹیکنالوجی، تیز رفتار ڈیٹا پروسیسنگ اور فیصلہ سازی کے عمل میں بہتری کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ کا سخت اقدام: ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ

اس موقع پر امریکی وزیرِ جنگ وزیرِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ “جدید جنگ میں وہی کامیاب ہوگا جو تیزی سے جدت اپنائے گا”۔ ان کے اس بیان کو امریکی دفاعی پالیسی میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے۔ بیان کے مطابق مستقبل کی جنگوں میں روایتی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ جدید مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل نظام فیصلہ کن حیثیت اختیار کریں گے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اے آئی ایکسیلریشن اسٹریٹیجی کے تحت ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو فوجی نیٹ ورکس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنائیں۔ اس تناظر میں گروک اے آئی کی شمولیت کو ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے امریکا جدید جنگی ٹیکنالوجی میں اپنی پوزیشن کو مضبوط رکھنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اجیت ڈوول کے بیان ’تاریخ کا بدلہ‘ پر بھارت میں شدید بحث، اپوزیشن اور سول سوسائٹی کا سخت ردعمل

یہ اعلان عالمی سطح پر دفاعی اور عسکری حلقوں میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے جنگی حکمتِ عملی اور فوجی نظام میں نمایاں تبدیلیاں متوقع سمجھی جا رہی ہیں۔

Scroll to Top