نئی دہلی: بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے ایک حالیہ بیان نے ملک بھر میں سیاسی اور سماجی سطح پر شدید بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اجیت ڈوول نے ایک تقریب میں کہا کہ ’تاریخ ہمیں چیلنج کرتی ہے، ہر نوجوان کے اندر وہ آگ ہونی چاہیے، ’بدلہ‘ لفظ اچھا لفظ نہیں ہے، لیکن بدلہ خود ایک طاقت ہے، ہمیں اپنی تاریخ کا بدلہ لینا ہے۔‘
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اجیت ڈوول نے مزید کہا کہ ’آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ ایک ایسے انڈیا میں پیدا ہوئے جو آزاد ہے، انڈیا ہمیشہ اتنا آزاد نہیں تھا جیسا کہ آپ کو نظر آتا ہے، ہمیں اس ملک کو ایک ایسی جگہ پر واپس لانا ہے جہاں ہم اپنے حقوق، اپنے نظریات اور اپنے عقائد کی بنیاد پر ایک عظیم انڈیا بنا سکتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت جنگ: جے 10 سی ای لڑاکا طیارے کی پہلی کامیابی،چین کی تصدیق
اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی شدید تنقید:
اجیت ڈوول کے بیان پر اپوزیشن رہنماؤں، صحافیوں اور دانشوروں نے سخت تنقید کی ہے۔ ناقدین نے اس بیان کو اشتعال انگیز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقلیتوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے والا ہے۔ محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ڈوول جیسے اعلیٰ عہدے پر فائز افسر، جس کا فرض ملک کو اندرونی اور بیرونی مذموم عزائم سے بچانا ہے، نے نفرت کے فرقہ وارانہ نظریے میں ملوث ہو کر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو معمول بنا لیا ہے۔‘
کانگریس اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اس بیان کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا۔ کانگریس ترجمان ڈاکٹر شمع محمد نے پلوامہ اور دیگر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے اجیت ڈوول سے جواب اور استعفے کا مطالبہ کیا۔ کئی سینئر صحافیوں اور دانشوروں نے سوال اٹھایا کہ اگر ’تاریخ کا بدلہ‘ لینا ہے تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ کس سے اور کیسے، جبکہ بعض نے بیان کو مبہم اور گمراہ کن قرار دیا۔

بی جے پی اور حکومتی حامیوں کا موقف:
بی جے پی اور اجیت ڈوول کے حمایتی حلقوں نے کہا کہ بیان کو سوشل میڈیا پر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ حکومتی حامیوں کا کہنا ہے کہ اجیت ڈوول نے اپنے خطاب میں جنگ اور قومی سلامتی کو ایک نظریاتی تناظر میں بیان کیا، تاہم مجموعی طور پر یہ بیان بھارت میں نئی سیاسی اور سماجی بحث کو جنم دینے والا ثابت ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو بڑا دھچکا، خلاء میں سیٹلائٹ بھیجنے کا مشن ناکام، 16 سٹلائٹس تباہ
یہ معاملہ بھارت میں نوجوانوں کی تربیت، قومی شناخت اور سماجی ہم آہنگی کے مسائل کے حوالے سے ایک نئے بحث کے نقطہ آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔




