مظفرآباد: مظفرآباد میں نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے والدین کو مالی بوجھ میں مبتلا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ اسکول مختلف پروگرامز جیسے اسپورٹس ڈے اور کلر ڈے کے نام پر والدین سے اضافی رقوم وصول کر رہے ہیں، جبکہ ہر ماہ ہزاروں روپے کی فیسیں بھی وصول کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ اس دوران اسکولوں میں تدریسی فرائض انجام دینے والی اساتذہ کو محض پانچ سے آٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے۔ والدین اور شہری اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ نجی اسکول والدین کو بلاجواز مالی بوجھ میں مبتلا کر کے اپنی مالی منافع خوری جاری رکھیں گے۔
شہریوں نے حکومتِ آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مبینہ لوٹ مار کا فوری نوٹس لے اور والدین کو بلاجواز مالی بوجھ سے نجات دلائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں معیار تعلیم بہتر ہونے کے بجائے والدین پر اضافی بوجھ ڈال کر نجی اسکول اپنے منافع کو ترجیح دے رہے ہیں، جو بچوں کی تعلیم اور والدین کے اعتماد کے لیے خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برٹش پاکستانی طالبہ نے لندن اسکول آف اکنامکس کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا
والدین کا کہنا ہے کہ نجی اسکولوں میں اس طرح کی اضافی فیسیں والدین کے لیے مالی مسائل پیدا کرتی ہیں اور اساتذہ کو نا مناسب تنخواہیں دینا بھی تعلیمی معیار پر اثر انداز ہوتا ہے۔مزید یہ کہ اگر حکومت نے فوری قدم نہ اٹھایا تو والدین مزید مالی دباؤ میں آ جائیں گے اور اسکولوں کے خلاف احتجاج بھی شروع ہو سکتا ہے۔
والدین اور سماجی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تعلیمی ادارے والدین سے صرف قانونی فیس وصول کریں اور کسی بھی غیر ضروری پروگرام کے لیے اضافی رقوم نہ لی جائیں، تاکہ بچوں کی تعلیم پر منفی اثرات نہ پڑیں۔




