بیجنگ: چینی انجینئرز نے ایک نئی قسم کی سوڈیم اور سلفر بیٹری تیار کی ہے جو لیتھیم سیلز کا سستہ اور محفوظ متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔
برقی آلات کی بڑھتی ہوئی تعداد میں لیتھیم کو اہم بیٹری مٹیریل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن لیتھیم بیٹریاں گرم ہونے کا خطرہ رکھتی ہیں اور اس مٹیریل کے حصول میں مسائل کے باعث یہ مہنگی بھی ثابت ہو رہی ہیں۔
دنیا بھر کے محققین ایسے بیٹری مٹیریلز کی تلاش میں ہیں جو زیادہ بہتر اور مطلوبہ خصوصیات کے حامل ہوں۔
سوڈیم اور سلفر بیٹریاں تیار کرنے کی سابقہ کوششیں کئی عملی رکاوٹوں کا شکار رہیں، جن میں سب سے بڑا مسئلہ سوڈیم دھات کی بہت زیادہ مقدار کی ضرورت تھی، جس نے ان کے وسیع پیمانے پر استعمال کی راہ میں بڑی رکاوٹ ڈالی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی طلبہ کیلئے چین میں اعلیٰ تعلیم کے سنہری مواقع، مکمل فنڈڈ اسکالرشپس کا اعلان
جرنل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے بتایا کہ اینوڈ میں سوڈیم دھات کی بھاری مقدار کا استعمال (جو عام لیتھیم اور سوڈیم بیٹریوں کے مقابلے میں عموماً درجنوں گنا زیادہ ہوتا ہے) نہ صرف حفاظتی خطرات اور لاگت میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ دستیاب توانائی اور پاور ڈینسٹی کو بھی متاثر کر کے کم کر دیتا ہے۔
محققین نے کیمیائی ردِعمل میں ترمیم کر کے ایک ہائی وولٹیج، اینوڈ فری بیٹری تیار کی جو کمرۂ درجۂ حرارت پر مؤثر انداز میں کام کرتی ہے۔ ان کے مطابق نیا ڈیزائن 3.6 وولٹ کا ڈسچارج وولٹیج فراہم کرتا ہے، جو سابقہ ماڈلز کے تقریباً 1.6 وولٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین نےدنیا کا پہلا روبوٹ فون متعارف کرادیا
چینی انجینئرز کی نئی بیٹری اس چیلنج کو حل کرنے کی امید رکھتی ہے اور مستقبل میں بیٹریوں کو محفوظ، کم لاگت اور ماحول دوست بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔




