وادی لیپہ

وادی لیپہ کا ’’دیوہیکل چنار کا درخت ‘‘عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا

وادی لیپہ (کشمیر ڈیجیٹل نیوز)آزاد کشمیر کی وادی لیپہ کے گاؤں چک مقام میں ایک قدیم اور دیوہیکل چنار کادرخت مقامی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔

مقامی زبان میں “سَم” کہلانے والا یہ درخت اپنی جسامت اور صدیوں پرانی تاریخ کی وجہ سے نہ صرف قدرتی خوبصورتی بلکہ علاقے کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی علامت بھی ہے ۔

مقامی آبادی کے مطابق درخت کی صحیح عمر کا تعین ممکن نہیں، تاہم اسے نسل در نسل وادی لیپہ کی تاریخ کی گواہی دینے والا سمجھا جاتا ہے ۔

ماہرین جنگلات کے مطابق اس طرح کے قدیم چنار درخت اپنی بڑی جسامت، گہرے جڑوں اور طویل عمر کی وجہ سے علاقے کے ماحولیاتی توازن میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وادی لیپہ: خزاں موسم جو نظروں کو نہیں دل کو بدل دیتا ہے

تاہم “سَم” کے بوسیدہ ہونے کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کسی بھی وقت گر سکتا ہے، جس سے نہ صرف یہ تاریخی ورثہ متاثر ہوگا بلکہ قریبی رہائشی علاقوں میں بھی خطرہ پیدا ہو سکتا ہے ۔

مقامی شہری اور طلبہ وادی کے بزرگ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومت اور محکمہ جنگلات صرف درخت کو وقتی طور پر محفوظ بنانے تک محدود نہ رہیں، بلکہ اس کی نسل کو آگے بڑھانے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جائیں ۔

شہریوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تاریخی درخت کی شجر کاری کے ذریعے افزائش نسل کی جائے اور اسے مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جائے ۔

یہ درخت نہ صرف قدرتی ورثے کی علامت ہے بلکہ وادی لیپہ کی شناخت کا حصہ بھی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس قسم کے درختوں کی حفاظت کے لیے مستقل نگرانی، کیمیائی حفاظتی اقدامات اور مقامی آبادی کی شمولیت ضروری ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وادی لیپہ کا نایاب سرخ چاول، قدیم روایت کا حصہ

شہریوں اور ماہرین کی یہ رائے ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وادی کے یہ قدیم چنار درخت جلد ختم ہو سکتے ہیں، جس سے تاریخی اور ماحولیاتی نقصان ہوگا ۔