فاروق حیدر

نواز شریف کو 2019 میں نہ ہٹایا جاتا تو حالات مختلف ہوتے، راجہ فاروق حیدر

مظفر آباد (کشمیر ڈیجیٹل نیوز)سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر و پارلیمانی لیڈر پاکستان مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ جب بھی آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن اور نظریہ الحاق پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج قومی نقصان کی صورت میں سامنے آئے ۔

انہوں نے کہا کہ 2021میں مسلم لیگ ن کو کمزور کرنے کی سازش کے نتیجے میں 5سالوں کے دوران چار وزرائے اعظم تبدیل ہو چکے ہیں ، راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ 2019میں میاں محمد نواز شریف کو اقتدار سے الگ نہ کیا جاتا تو ملک کی صورت حال اس وقت مختلف ہوتی ۔

پاکستان نے ہمیشہ (ن)لیگ کے دور میں ترقی اور وقار کی منزلیں طے کیں ۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اورچیف آف آرمی سٹاف و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان حقیقی ایشین ٹائیگربن رہا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مسلم لیگ ن کے پاس نوجوانوں میں پائی جانیوالی مایوسی کا حل موجود،راجہ فاروق حیدر

اسلام آباد میں شمولیتی تقریب اور مظفر آباد واپسی کے موقع پر مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ آزاد کشمیر میں موجودہ حکومت کی مدت انتہائی مختصر ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ حکومت انشاءاللہ مسلم لیگ ن کی ہو گی ۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ اتفاق و اتحاد قائم رکھیں جماعتی ڈسپلن کی پابندی کریں گے تو پارٹی کامیاب ہو گی ۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میر پور ڈویژن میں جماعت دن بہ دن مضبوط ہو رہی ہے ، چوہدری طارق فاروق جماعت کے سینئر رہنما ہیں ،ان کا تعلق میر پور سے ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:من مانی نہیں کرنے دینگے،راجہ فاروق حیدر کا حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان

ان کاآخر میں کہنا تھا کہ جماعت کی مضبوطی اور استحکام کے لیے سب مل کر کردار ادا کریں گے ۔

Scroll to Top