مظفر آباد:مہاجرین جموں و کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں ختم کرنا ممکن نہیں اور چند افراد اپنے ذاتی فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مہاجرین کا کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض اقدامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ بھارت کے مؤقف کو تقویت دے رہی ہے، جس سے آزاد کشمیر کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مہاجرین جموں و کشمیر کا کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کچھ لوگ مہاجرین کو ان کے ہی وطن سے جدا کرنا چاہتے ہیں۔ مہاجرین نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے ملنے والے بجٹ پر جتنا حق کشمیر کے مقامی لوگوں کا ہے اتنا ہی حق ہمارا، یعنی مہاجرین کا بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین جموں و کشمیر کی نشستیں ختم کرنا کسی صورت ممکن نہیں، کیونکہ یہ آئینی اور قانونی معاملہ ہے، نہ کہ چند افراد کے فیصلوں کا نتیجہ،ایکشن کمیٹی انڈیا والا کام کر رہی ہے، ان کے مطالبات آٹے اور بجلی سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ اگر سیٹیں ختم کرنے کا شوق ہے تو الیکشن لڑیں۔ ہم 27 لاکھ کشمیری ایکشن کمیٹی کی چالیں بے نقاب کریں گے
🚨🚨 ایکشن کمیٹی انڈیا والا کام کر رہی ہے، ان کے مطالبات آٹے اور بجلی سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ اگر سیٹیں ختم کرنے کا شوق ہے تو الیکشن لڑیں۔ ہم 27 لاکھ کشمیری ایکشن کمیٹی کی چالیں بے نقاب کریں گے، مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان, شہری کی گفتگو pic.twitter.com/6V8DAH2Ve2
— Kashmir Digital (@KashmirDigital1) January 10, 2026
مہاجرین کا مؤقف ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا یہ رویہ نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی اور اقدامات کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے سے صرف بھارت کو فائدہ ہوگا، جبکہ کشمیری مؤقف کمزور پڑنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کا طرز عمل ریاستی نظام کمزور کرنے کی سازش، شوکت علی شاہ
مہاجرین نے کہا کہ موجودہ حالات واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ عوامی ایکشن کمیٹی ضد پر اڑی ہوئی ہے، حالانکہ یہ مسئلہ عوامی ایکشن کمیٹی کا نہیں بلکہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اختیار ہے۔ مہاجرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس معاملے پر یکطرفہ فیصلے نہ صرف غیر آئینی ہیں بلکہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
مہاجرین رہنماؤں نے کہا کہ مقبول بٹ صاحب اور کے ایچ خورشید جیسے بڑے لیڈروں نے بھی مہاجرین کی نشستوں پر الیکشن لڑا ہے، اور عوامی ایکشن کمیٹی کا نظریہ ان تاریخی رہنماؤں سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مہاجرین بھارت جائیں تو بھارت انہیں کشمیری تسلیم نہیں کرے گا، اور یہی بیان عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے بھی سامنے آ رہا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انہیں بھارت کی جانب سے فنڈنگ یا حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت آزادکشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت
مہاجرین نے شوکت نواز میر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا بھی کشمیر پر حق ہے، آپ کیسے مہاجرین کی نشستیں ختم کروا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں، کیونکہ کسی کی جرات نہیں کہ وہ مہاجرین کی نشستیں ختم کر سکے۔ مہاجرین نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ خاموش ہیں تو اس کا مطلب کمزوری نہیں، اور انہیں خاموش رہنے دیا جائے۔
مہاجرین جموں و کشمیر نے مزید کہا کہ بھارت کا مؤقف ہے کہ اگر مہاجرین جموں و کشمیر واپس گئے تو انہیں کشمیری تصور نہیں کیا جائے گا، اور عوامی ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا بھی اسی بھارتی بیانیے سے مماثلت رکھتا ہے۔ مہاجرین کے مطابق اس پالیسی کے پیچھے غیر ملکی ایجنڈا کارفرما ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
🚨🚨
موجودہ حالات بتا رہے ہیں کہ عوامی ایکشن کمیٹی ضد پر اڑی ہوئی ہے۔ یہ مسئلہ ایکشن کمیٹی کا نہیں ہے یہ اختیار آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا ہے۔
مہاجرین جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی پر برس پڑے! pic.twitter.com/vMuJ0CLLp6— Kashmir Digital (@KashmirDigital1) January 10, 2026




