ٹیرف

ٹرمپ کا ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے اور 8 طیارے گرنے کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی اور اس کے دوران جنگ رکوانے سے متعلق اپنے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوا کر بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن بنایا۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت سمیت مجموعی طور پر 8 جنگیں رکوائیں، اور اس موقع پر 8 طیارے گرنے کا بھی حوالہ دیا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق پاکستانی وزیراعظم نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ جنگ رکوانے سے لاکھوں جانیں بچیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میں خطے میں ایک بڑی تباہی ٹل گئی، اور یہ اقدام عالمی امن کے لیے نہایت اہم ثابت ہوا۔ انہوں نے اس بیان کو اپنی سفارتی کامیابیوں میں شمار کیا۔

اسی گفتگو کے دوران امریکی صدر نے وینزویلا سے متعلق بھی اظہارِ خیال کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا نے وینزویلا کے تیل پر قبضہ نہ کیا ہوتا تو روس اور چین وہاں پہنچ جاتے۔ ان کے مطابق وینزویلا اور امریکا کے پاس دنیا کے 55 فیصد تیل کے ذخائر موجود ہیں، اور روس و چین وہ تمام تیل خرید سکتے ہیں جو وہ امریکا یا وینزویلا سے چاہتے ہوں۔ صدر ٹرمپ نے اس معاملے کو عالمی طاقتوں کے درمیان مسابقت کے تناظر میں بیان کیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا سے چین اور روس خوفزدہ ہیں: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر نے روس اور چین سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیوٹن یورپ سے نہیں بلکہ امریکا سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چین اور روس کے عوام سے محبت کرتے ہیں، جبکہ پیوٹن کو ایک اچھا انسان قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ انہوں نے انہیں مایوس کیا ہے۔

گرین لینڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ روس یا چین گرین لینڈ تک پہنچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ نہ لیا تو اس کا اگلا پڑوسی روس یا چین ہوگا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس وقت گرین لینڈ سے متعلق مختلف پہلوؤں پر غور جاری ہے، جبکہ اس علاقے کے مالی معاملات پر فیصلہ بعد میں کیا جائے گا اور فی الحال رقم پر کوئی بات نہیں ہو رہی۔

مزید پڑھیں: امریکی مفادات کیلئے کسی بھی ملک میں کارروائی کا حق رکھتے ہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ڈنمارک کے ساتھ ڈیل کرنا چاہیں گے، کیونکہ امریکا روس اور چین دونوں کو اپنا پڑوسی نہیں بنا سکتا۔ ان بیانات کے ذریعے امریکی صدر نے عالمی سیاست، توانائی کے وسائل اور جغرافیائی حکمتِ عملی سے متعلق اپنے مؤقف کو ایک بار پھر واضح کیا۔

Scroll to Top