ایران میں احتجاج بے قابو،انٹرنیٹ سروس معطل، ٹرمپ نے پھر وارننگ دیدی

تہران/واشنگٹن:ایران کی اسلامی جمہوریہ ایک بار پھر شدید بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں معاشی تباہی نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔

انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی شام سے ایران میں مکمل قومی انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ ہے، جو احتجاج کو روکنے کی حکومت کی آخری کوشش معلوم ہوتی ہے۔

یہ بلیک آؤٹ احتجاج کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی آیا جب تہران سمیت ملک بھر کے شہروں میں لاکھوں افراد نے سڑکیں بلاک کر دیں اور نظام کے خلاف نعرے لگائے۔

قطری خبر رساں ادارے کے رپورٹر توحید اسدی نے تہران سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کی رات 8 بجے سے دارالحکومت کے متعدد محلے سڑکوں پر نکل آئے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج میں شدت، 2 سکیورٹی اہلکار جاں بحق

شہر کے مرکزی علاقوں سے گزرتے ہوئے کئی سڑکیں بلاک تھیں، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور سیاسی قیادت کے خلاف سخت نعرے سنائی دے رہے تھے۔

اسدی نے کہا کہ معاشی دباؤ نے عوامی اعتماد کو ختم کر دیا ہے، خاص طور پر مزدور اور نچلی متوسط طبقے اب روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

احتجاج دسمبر کے آخر سے جاری ہیں، جو ایرانی ریال کی شدید گراوٹ اور اشیاء کی آسمان چھوتی قیمتوں پر شروع ہوئے۔ اب یہ معاشی مطالبات سے آگے نکل کر سیاسی انقلاب کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق احتجاج شروع ہونے سے اب تک کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ہزاروں گرفتار کیے گئے۔

تہران، تبریز، اصفہان، مشہد اور کرمان سمیت تمام 31 صوبوں میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، اور بازاروں میں تاجر ہڑتال پر ہیں۔

حکومت کی جانب سے مخلوط پیغامات آ رہے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان نے سیکورٹی فورسز کو انتہائی تحمل کا حکم دیا ہے مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔

مظاہرین کو قتل کیا گیا تو سخت جواب دیں گے، ٹرمپ کی پھر وارننگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی صورت میں ایک بار پھر ایران کو سخت وارننگ دیدی۔

امریکی صدر نے ایک انٹر ویو کے دوران متنبہ کیا کہ اگر احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہ ایران کو بھرپور اور بہت سخت جواب دیں گے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ اگر لوگوں کو قتل کرنا شروع کیا، جیسا کہ وہ عموماً کرتے ہیں، تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

انٹرویو کے دوران جب میزبان نے کہا کہ مظاہروں میں درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ بعض اموات بھگدڑ کے باعث بھی ہوئیں اور ضروری نہیں کہ یہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا نتیجہ ہوں۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہر موت کا ذمہ دار کسی ایک فریق کو نہیں ٹھہرا سکتے لیکن ایران کو سختی سے خبردار کر دیا گیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا سے چین اور روس خوفزدہ ہیں: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے نام پیغام دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آپ آزادی کے لیے کھڑے ہیں، آپ بہادر لوگ ہیں،آپ کے ملک میں جو بھی ہورہا ہے وہ افسوسناک ہے۔

Scroll to Top