سائنس فکشن فلموں میں دکھائے جانے والے ایسے موبائل فونز، جن کی اسکرین ضرورت کے مطابق چھوٹی یا بڑی ہو جاتی ہے، اب محض تصور نہیں رہے بلکہ حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ سام سنگ نے ایک ایسا نیا اسمارٹ فون متعارف کرایا ہے جس کا ڈیزائن روایتی فونز سے بالکل مختلف ہے اور جو مستقبل کے اسمارٹ فونز کی شکل و صورت پر نئے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
یہ نیا فون ایک سے زیادہ سطحوں پر فولڈ ہونے والی اسکرین کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جو عام فون کے سائز سے بڑھ کر تقریباً ٹیبلیٹ جتنی بڑی ورک اسکرین میں تبدیل ہو سکتا ہے، جبکہ جیب میں رکھنے کی سہولت برقرار رہتی ہے۔ یہ جدت اس بات کی علامت ہے کہ ٹیکنالوجی اب صرف کیمرہ یا پروسیسر کی بہتری تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیوائس کی ساخت اور استعمال کے طریقوں کو بھی نئے انداز میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔
ابتدائی نمائش اور حکمت عملی:
سام سنگ نے یہ فون لاس ویگاس میں منعقد ہونے والے CES میلے کے دوران پیش کیا، جبکہ اس کی محدود تعداد جنوبی کوریا میں فروخت کے لیے دستیاب کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کو صارفین کے ابتدائی ردعمل کو جانچنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ نئی نسل کے فونز کے حوالے سے مارکیٹ کے رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے، جیسا کہ “سی این این” کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی
اگرچہ فون کی حتمی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اندازہ ہے کہ یہ کافی مہنگا ہوگا، خاص طور پر Galaxy Z Fold 7 کے مقابلے میں، جس کی ابتدائی قیمت تقریباً 2000 ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
ضرورت کے مطابق بڑھنے والی اسکرین:
Galaxy Z Trifold کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی لچکدار اسکرین ہے۔ مکمل طور پر کھولنے پر یہ ایک وسیع ورک اسپیس فراہم کرتا ہے، جہاں ایک ساتھ متعدد ایپس چلائی جا سکتی ہیں، ایپس کو ڈیسک ٹاپ کی طرز پر ونڈوز میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور بلوٹوتھ کے ذریعے کی بورڈ اور ماؤس جوڑ کر کام کی صلاحیت بڑھائی جا سکتی ہے۔ سام سنگ کے مطابق یہ فون خاص طور پر اُن صارفین کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو اپنے فون کو کام کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ فون Google Gemini اسمارٹ اسسٹنٹ کو بھی سپورٹ کرتا ہے، جو متعدد ایپس کے درمیان نیویگیشن اور ٹاسک مینجمنٹ کو آسان بناتا ہے۔
جدید ڈیزائن اور کچھ سمجھوتے:
کھلنے پر فون حیرت انگیز طور پر پتلا دکھائی دیتا ہے، تاہم مکمل طور پر بند ہونے پر یہ نسبتاً موٹا محسوس ہوتا ہے۔ اس کے باوجود مجموعی تجربہ پہلے کے فولڈ ایبل فونز کے مقابلے میں بہتر قرار دیا جا رہا ہے۔ Galaxy Z Trifold میں کیمرے تقریباً وہی معیار رکھتے ہیں جو Galaxy S25 Ultra میں دیکھے گئے ہیں، جبکہ اسکرین پر موجود فولڈز روزمرہ استعمال میں زیادہ پریشان کن نہیں۔
کیا اتنی بڑی اسکرین واقعی ضروری ہے؟
اگرچہ یہ فون ٹیکنالوجی کا ایک شاندار مظاہرہ ہے، تاہم سوال اب بھی باقی ہے کہ کیا عام صارف واقعی اپنے فون میں اتنی بڑی اسکرین چاہتا ہے۔ بڑی اسکرین اور متعدد ایپس کے باوجود یہ فون فی الحال روایتی فون چھوڑنے کی کوئی مضبوط وجہ فراہم نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں:ایپل کی فولڈ ایبل آئی فون متعارف کروانے کی تیاری مکمل
اس کے باوجود، فولڈ ایبل فونز کا یہ رجحان مستقبل میں مزید مضبوط ہوتا دکھائی دیتا ہے، اور Galaxy Z Trifold آنے والے برسوں میں اسمارٹ فونز کی ممکنہ شکل کی واضح جھلک پیش کرتا ہے۔




