بھارتی انکار کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کامشترکہ ویکسین منصوبے پر غور

بھارت کی جانب سے ویکسین کی فراہمی سے انکار کے بعد پاکستان اور سعودی عرب نے مشترکہ طور پر ویکسین تیار کرنے کے منصوبے کے آغاز پر غور شروع کر دیا ہے۔ علاقائی کشیدگی کے باعث ویکسین کی سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر مقامی سطح پر ویکسین کی مشترکہ پیداوار کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ بھارتی مینوفیکچررز نے پاکستان کے لیے ویکسین فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ اہم پیش رفت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط اور رابطہ کے اجلاس کے دوران سامنے آئی، جہاں وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ارکانِ پارلیمنٹ کو ویکسین کی خریداری میں درپیش مشکلات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ بھارت کی جانب سے ویکسین کی فراہمی بند ہونے کے بعد پاکستان کو اپنے حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے تسلسل کے لیے متبادل راستے اختیار کرنا پڑے ہیں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایک اعلیٰ سطح کا سعودی وفد 28 جنوری کو پاکستان کا دورہ کرے گا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ویکسین کے شعبے میں تعاون سے متعلق معاملات کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ماضی میں توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (ای پی آئی) کے تحت ویکسین بین الاقوامی شراکت داروں کے ذریعے بھارتی کمپنیوں سے حاصل کرتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ دوطرفہ کشیدگی کے بعد بھارتی مینوفیکچررز نے تیسرے فریق کے ذریعے بھی پاکستان کے لیے ویکسین فراہم کرنے سے انکار کر دیا، جس سے ویکسین کی مسلسل فراہمی متاثر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاک سعودیہ تعلقات میں اہم پیشرفت، شہزادہ محمد بن نے دورہ پاکستان کی خواہش ظاہر کردی

سید مصطفیٰ کمال کے مطابق پاکستان اس وقت سالانہ تقریباً 350 سے 400 ملین ڈالر کی ویکسین خریدتا ہے۔ اس لاگت کا تقریباً 51 فیصد مقامی وسائل سے پورا کیا جاتا ہے، جبکہ باقی رقم ترقیاتی شراکت داروں بشمول گیوی، یونیسف، عالمی ادارۂ صحت، گیٹس فاؤنڈیشن اور روٹری انٹرنیشنل فراہم کرتے ہیں۔ وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ یہ بیرونی معاونت 2030 تک ختم ہو جائے گی، جس کے بعد پاکستان کو اپنا حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام مکمل طور پر خود مالی وسائل سے چلانا ہوگا۔

اسی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے قومی ویکسین پالیسی وزیرِ اعظم کو پیش کر دی ہے۔ اس پالیسی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیوں پر مشتمل نیشنل ویکسین الائنس کے قیام کی تجویز شامل ہے۔ وزیرِ صحت نے بتایا کہ پاکستان نے کئی ممالک کے ساتھ شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لیا، جس کے بعد سعودی عرب کا انتخاب کیا گیا۔ مجوزہ فریم ورک کے تحت ابتدا میں ویکسین کی پیکجنگ اور فنشنگ کی جائے گی، جس کے بعد مرحلہ وار مکمل مقامی پیداوار کی جانب پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کو سالانہ تقریباً 140 ملین ای پی آئی ویکسین خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت ایکشن کمیٹی سے فوری اور سنجیدہ مذاکرات کرے: شاہ غلام قادر

Scroll to Top