امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا سے متعلق امریکی پالیسی اور ممکنہ فوجی اقدامات پر تفصیلی مؤقف سامنے رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا وینزویلا کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا میں اگلے 30 دن کے دوران نئے انتخابات نہیں ہوں گے اور موجودہ حالات میں فوری طور پر انتخابات کرانا ممکن نہیں۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت وینزویلا میں عوام کے لیے ووٹ ڈالنا بھی ممکن نہیں، اس لیے فوری انتخابات کا انعقاد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق پہلے ملک کو دوبارہ سنبھالنا ہوگا، جس میں وقت لگے گا، اور یہ عمل مرحلہ وار آگے بڑھے گا۔
صدر ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی فوج کو دوبارہ وینزویلا بھیجنے کے لیے کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا وینزویلا میں طویل المدتی بنیادوں پر کردار ادا کرے گا اور مستقبل کے اقدامات ایک واضح حکمتِ عملی کے تحت مرحلہ وار کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے کولمبیا کے خلاف فوجی کارروائی کو خوش کن قرار دے دیا
توانائی کے شعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کے توانائی کے شعبے کی بحالی کے لیے تیل کمپنیوں کی مدد کی جائے گی، جس کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے منصوبوں میں کم از کم 18 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے، اور اس دوران مختلف تکنیکی اور انتظامی مراحل طے کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکا وینزویلا کے ساتھ جنگ میں نہیں ہے بلکہ منشیات فروشوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ان لوگوں کے خلاف ہے جو اپنے قیدیوں، منشیات کے عادی افراد اور ذہنی مریضوں کو امریکا بھیجتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکا نے وینزویلا سے متعلق معاملات کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ اس ٹیم میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سمیت دیگر حکومتی عہدیداران شامل ہیں، جو وینزویلا کی صورتحال، مستقبل کے اقدامات اور امریکی مفادات کے حوالے سے امور کی نگرانی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی حملہ،وینزویلا میں 40افراد ہلاک، ٹرمپ کی نائب صدر کو بھی دھمکی
صدر ٹرمپ کے ان بیانات کو وینزویلا سے متعلق امریکی پالیسی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جن میں فوجی، سیاسی اور معاشی پہلوؤں کو ایک واضح فریم ورک کے تحت بیان کیا گیا ہے۔




