تحفظات

وزیراعظم سیکریٹریٹ میں جیالوں کی ایڈجسٹمنٹ، خواتین نظرانداز ،شدید تحفظات سامنے آ گئے

اسلام آباد / مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل نیوز)وزیراعظم سیکریٹریٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ جیالوں کو 18 اور 20 گریڈ کی سرکاری اسامیوں پر ایڈجسٹ کیے جانے پر خواتین ونگ کی جانب سے شدید تحفظات سامنے آ گئے ہیں ۔ خواتین ونگ کی ورکرز کا پارٹی کے لیے دن رات محنت کرنے والی خواتین کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا ناانصافی اور امتیازی سلوک کے مترادف ہے ۔

خواتین ونگ کی رہنماؤں اور کارکنان کے مطابق وزیراعظم سیکریٹریٹ میں ہونے والی حالیہ ایڈجسٹمنٹس میں صرف مرد جیالوں کو نوازا گیا، جبکہ پیپلز پارٹی کی خواتین ونگ سے تعلق رکھنے والی کسی بھی جیالی کو نہ تو کسی عہدے پر ایڈجسٹ کیا گیا اور نہ ہی ان کی خدمات کو سراہا گیا ۔

خواتین ورکرز کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹوؒ کی جدوجہد، قربانیوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے وژن کی مثالیں دیتی ہے، خاص طور پر آزاد کشمیر میں پارٹی قیادت خواتین کے حقوق کی بات کرتی نظر آتی ہے ، مگر عملی طور پر خواتین ونگ کو نظرانداز کرنا ان دعوؤں کے برعکس ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ریاست بھر میں ہیلتھ کارڈ سہولت کو بلا تاخیر فعال کیا جائے ،وزیرِاعظم فیصل ممتاز راٹھور

خواتین ونگ نے ہر مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ دیا، الیکشن مہمات، احتجاجی تحریکوں اور تنظیمی سرگرمیوں میں فرنٹ لائن پر کام کیا، مگر آج جب ایڈجسٹمنٹ اور عہدوں کی بات آئی تو خواتین کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا، جو ایک بڑا ظلم ہے ۔

خواتین ونگ نے پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم سیکریٹریٹ اور دیگر اداروں میں ایڈجسٹمنٹ کے عمل کو شفاف بنایا جائے اور پیپلز پارٹی کی خواتین ورکرز کو بھی ان کی خدمات کے مطابق عہدے دیے جائیں، تاکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹوؒ کے خواتین کو بااختیار بنانے کے فلسفے پر حقیقی معنوں میں عمل ہو سکے ۔

ناانصافی کا ازالہ نہ کیا گیا تو 2026کے الیکشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا سکتا ہے پارٹی کے اندر شدید مایوسی پھیلنے کا خدشہ ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری پارٹی قیادت پر عائد ہو گی ۔

Scroll to Top