چین کا امریکا سے وینزویلا کے صدر اورانکی اہلیہ کی فوری رہائی کامطالبہ

بیجنگ : چین نے امریکا سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، جس پر چین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس اقدام پر چین شدید تشویش میں ہے۔ وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی ذاتی سلامتی کو یقینی بنائے اور انہیں فوری طور پر رہا کرے۔

چین نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکا وینزویلا کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششیں بند کرے اور تمام مسائل کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔ چینی حکام کے مطابق کسی بھی قسم کی طاقت کے استعمال یا دباؤ کی پالیسی خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے وینزویلا میں کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا۔ اس اقدام کے بعد عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ چین نے اس معاملے پر دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا وینزویلا پر قابض ، ڈیلسی روڈریگیز نے ٹرمپ کے دعوے مسترد کر دئیے

چین نے اس کارروائی کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہیں بلکہ علاقائی کشیدگی میں اضافے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ چین وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیتا ہے اور تمام فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ مسائل کا حل سیاسی مکالمے اور سفارتی ذرائع کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ چین کا کہنا ہے کہ طاقت یا دباؤ کے ذریعے کسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت قابلِ قبول نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکا پہنچا دیا گیا ، آج عدالت میں پیش کیا جائےگا

چینی حکام نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ امریکا فوری طور پر صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو رہا کرے اور ان کی سلامتی کو یقینی بنائے۔ چین کے مطابق عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

Scroll to Top