پاکستان میں نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال پر خود انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اعتراف کرتے ہوئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے کردار کو سراہا ہے۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے خصوصی تہنیتی پیغام جاری کیا ہے، جس میں پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کا یقین بھی دلایا گیا ہے۔
ڈی جی آئی اے ای اے رافیل ماریانو گروسی نے اپنے پیغام میں کہا کہ کینسر کے خلاف جنگ میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا کردار قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں ہر سال کینسر کے باعث ایک لاکھ سے زائد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جو ایک سنگین چیلنج ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے ملک بھر میں اکیس کینسر اسپتال قائم کیے ہیں، جہاں جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ڈی جی آئی اے ای اے نے اس امر کو بھی سراہا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے کینسر کے ماہرین پر مشتمل ایک پیشہ ورانہ ٹیم تیار کی ہے، جو کینسر کے مریضوں کی تشخیص اور علاج میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کاوشیں بلاشبہ قابلِ تعریف ہیں اور عوامی صحت کے شعبے میں پاکستان کے عزم کی عکاس ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں کینسر کے علاج کیلئے ہسپتال کا قیام خوش آئند ہے، وزیر اعظم شہباز شریف
رافیل ماریانو گروسی نے اسلام آباد کے نوری اسپتال میں پاکستان کے پبلک سیکٹر میں سائبر نائف کی پہلی سہولت کے باضابطہ افتتاح کو باعثِ فخر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوری ہسپتال اسلام آباد کی بطور آئی اے ای اے “ریز آف ہوپ” اینکر سینٹر پارٹنرشپ کلیدی اہمیت کی حامل ہے، جو کینسر کے علاج اور تحقیق میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
ڈی جی آئی اے ای اے نے آزاد کشمیر میں کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن، اونکولوجی اینڈ ریڈیوتھیرپی کے قیام پر بھی پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اس پیش رفت کو خطے میں کینسر کے مریضوں کے لیے ایک اہم سہولت قرار دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پُرامن اور انسان دوست استعمال کی واضح مثال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹی ایچ کیو ہسپتال کیل کی ایمبولینس خود امداد کی متلاشی بن گئی
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کے اس خصوصی پیغام کو پاکستان میں نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال اور صحت کے شعبے میں کی جانے والی کوششوں کا عالمی سطح پر اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔



