کرکٹ

بھارت کا متعصبانہ رویہ، پاکستان کے بعد بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کا بھی بھارت جانے سے انکار

بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو اچانک آئی پی ایل سے ہٹانے کے فیصلے کے بعد عوامی کرکٹ حلقوں میں بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔

یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو بی سی سی آئی نے باضابطہ ہدایت دی کہ وہ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 کے اسکواڈ سے ریلیز کریں ۔ بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیواجیت سائیکیا نے تصدیق کی کہ یہ فیصلہ بورڈ کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری کیا گیا ہے ۔

مستفیض الرحمان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے پیچھے متعصبانہ رویہ اور حکومت کی مداخلت شامل پے، کیونکہ دسمبر 2025 کی نیلامی میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے انہیں 9 کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپے میں خریدا تھا، جو انہیں آئی پی ایل کی تاریخ کا سب سے مہنگا بنگلادیشی کھلاڑی  ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:قومی کرکٹر امام الحق اور انمول محمود کے ہاں ننھی پری کی آمد

اس صورت حال پر بنگلادیش کے وزیر کھیل آصف نذرل نے بھی ردعمل میں کہا ہے کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی سے ٹیم کی سکیورٹی کی ضمانت حاصل کرنی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر ورلڈ کپ کے میچز سری لنکا میں شیڈول کرنے چاہئیں تاکہ کھلاڑی محفوظ ماحول میں کھیل سکیں ۔

وزیر کھیل نے واضح کیا کہ یہ قدم پاکستان کی مثال کے مطابق ہونا چاہیے ، جہاں ٹیمیں محفوظ مقامات پر میچ کھیلنے کی اجازت حاصل کر چکی ہیں ۔ مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے ہٹنے کا معاملہ صرف کھیل کا نہیں بلکہ اس میں بین الاقوامی کرکٹ سیاست اور سکیورٹی کے مسائل بھی شامل ہیں ۔

اس فیصلے کے بعد بنگلادیشی کرکٹ شائقین میں سخت ناپسندیدگی پیدا ہو گئی ہے اور توقع ہے کہ بورڈ کھلاڑیوں کے تحفظ اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرے گا ۔