لاطینی امریکا میں ہفتے کے روز اس وقت شدید کشیدگی پیدا ہو گئی جب امریکا نے باضابطہ طور پر وینزویلا پر حملہ کر دیا، جس کی تصدیق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر کی۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک بدر کیے جانے کا بھی دعویٰ سامنے آیا ہے۔
وینزویلا کی حکومت نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ دارالحکومت کراکس اور دیگر علاقوں میں شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق رات گئے متعدد دھماکوں، نچلی پرواز کرنے والے طیاروں اور مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
حکومتی بیان کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے کے قریب کراکس میں کم از کم سات دھماکے سنے گئے، جبکہ کئی محلوں کے اوپر طیارے کم بلندی پر پرواز کرتے رہے۔ مختلف ریاستوں میں شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں دارالحکومت کے کئی علاقے بجلی سے محروم ہو گئے۔ کراکس میں ایک فوجی اڈے کے ہینگر سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا جبکہ ایک اور فوجی تنصیب کی بجلی منقطع ہو گئی۔
WATCH: Major secondary explosions after U.S. airstrike near Higuerote Airport, Miranda, Venezuela. pic.twitter.com/JezFG9qxLz
— Clash Report (@clashreport) January 3, 2026
شہریوں نے خوف و ہراس کے مناظر بیان کیے۔ 21 سالہ دفتری ملازم کارمین ہیڈالگو نے کہاکہ ‘ساری زمین ہل گئی، یہ بہت خوفناک تھا۔ ہم نے دھماکوں کی آوازیں سنیں اور دور سے طیاروں کی گڑگڑاہٹ محسوس کی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہوا ہم سے ٹکرا رہی ہو‘۔ کئی علاقوں میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے جبکہ آسمان پر دھوئیں کے بادل اور مزید دھماکوں کی جھلکیاں دکھائی دیتی رہیں۔ اس کے باوجود سرکاری ٹی وی نے اپنی نشریات جاری رکھیں اور موسیقی و ثقافت سے متعلق پروگرام نشر ہوتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظاہرین پر تشدد کیا تو مداخلت کرینگے،ٹرمپ،جواب دینگے،ایران کاانتباہ
مادورو کا ہنگامی حالت کا اعلان:
وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل نے امریکی کارروائی کو ’انتہائی سنگین فوجی جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک اس حملے کو مسترد، مذمت اور بے نقاب’ کرتا ہے۔ صدر نکولس مادورو نے بعد ازاں ایک فرمان پر دستخط کرتے ہوئے بیرونی خلفشار کے باعث پورے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا حکم دے دیا۔
ٹرمپ کا دعویٰ اور امریکی موقف:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’سوشل ٹروتھ‘ پر دعویٰ کیا کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف ‘بڑے پیمانے پر حملہ’ کیا ہے۔ ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ‘گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے’ اور یہ کارروائی ‘امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے’ کی گئی۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا نے کیریبین میں بحری ٹاسک فورس تعینات کر رکھی ہے اور خطے میں فوجی سرگرمیاں بڑھ چکی ہیں۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی وینزویلا میں مبینہ منشیات سے متعلق کارروائیوں کا ذکر کر چکے ہیں۔ یہ وینزویلا کی سرزمین پر امریکا کی پہلی براہِ راست زمینی فوجی کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔
علاقائی ردِعمل اور سفری انتباہ:
کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل برمودیز نے وینزویلا پر مبینہ حملے کو ‘مجرمانہ اقدام’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کے امن کے خلاف ‘ریاستی دہشت گردی’ ہے۔ انہوں نے بیان کا اختتام نعرے پر کیا، ‘وطن یا موت، ہم کامیاب ہوں گے’۔
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے دھماکوں اور غیر معمولی فضائی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ‘کوئی بھی یکطرفہ فوجی کارروائی صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہے اور شہری آبادی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے’۔
ادھر بوگوٹا میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو وینزویلا کا سفر نہ کرنے کی ہدایت دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ملک لیول فور ‘سفر نہ کریں’ ایڈوائزری کے تحت ہے، جو سب سے بلند سطح ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا ٹرمپ کی تہران پر قیامت برپا کرنے کی دھمکی پر سخت ردعمل
علاقائی اور عالمی سطح پر مسلسل ردِعمل کے ساتھ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ یہ صورتحال پہلے سے کشیدہ جغرافیائی و سیاسی ماحول میں مزید خطرناک تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔
U.S. helicopter, possibly an AH-1Z Viper, firing guns and rockets at ground targets in Caracas, Venezuela. pic.twitter.com/IplhDFbs2c
— Clash Report (@clashreport) January 3, 2026




