مسلہ جموں وکشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد ہے،آزادی پسند رہنماؤں کی پریس کانفرنس

مسئلہ جموں کشمیر کا منصفانہ، پائیدار اور دیرپا حل صرف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے استصوابِ رائے سے متعلق قراردادوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، جبکہ بھارت ان قراردادوں کی نفی، انکار اور بغاوت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ اس دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے۔

یہ بات چیئرمین پاسبانِ حریت عزیر احمد غزالی، ترجمان وزیراعظم آزاد کشمیر شوکت جاوید میر، وائس چیئرمین پاسبانِ حریت عثمان علی ہاشم اور دیگر آزادی پسند رہنماؤں نے سینٹرل پریس کلب مظفرآباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

رہنماؤں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ریاست بھر کے عوام کو ایک آواز بن کر دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنا ہوگا، کیونکہ مسئلہ جموں کشمیر دنیا کے قدیم ترین حل طلب تنازعات میں شامل ہے اور اقوامِ متحدہ کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس موقع پر چیئرمین پاسبانِ حریت عزیر احمد غزالی نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں، تاہم کشمیری عوام اپنی آزادی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد پوری استقامت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت 46 شہریوں کو قتل کیا گیا جبکہ چار ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق پہلے ہی ہزاروں کشمیری بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی افواج نے کشمیری نوجوانوں، صحافیوں اور حریت قیادت کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

عزیر احمد غزالی نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور 5 جنوری 1949 کی تاریخی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قراردادیں کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت کی واضح ضمانت فراہم کرتی ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کی بنیادی اور تاریخی دستاویزات ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان وزیراعظم آزاد کشمیر شوکت جاوید میر نے کہا کہ 5 جنوری 1949 کی قرارداد کے تحت کشمیری عوام کو استصوابِ رائے کا حق دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ، پائیدار اور دیرپا حل اقوامِ متحدہ کی انہی قراردادوں میں موجود ہے، مگر بھارت مسلسل ان قراردادوں کو نظر انداز کر رہا ہے جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پلوامہ حملہ بی جے پی کی سازش تھی،مودی حکومت پر سنگین الزامات، بھارتی سیاستدان کا انکشاف

وائس چیئرمین پاسبانِ حریت عثمان علی ہاشم نے کہا کہ کشمیر پر بھارتی مؤقف عالمی قوانین اور انسانی اقدار سے متصادم ہے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے روگردانی خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور استصوابِ رائے کا مضبوط حامی ہے اور کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کی مکمل حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اسلامیانِ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اس مسلسل تعاون پر دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں۔

مقررین نے اعلان کیا کہ یکم جنوری سے پاسبانِ حریت کے زیرِ اہتمام حقِ خودارادیت عوامی رابطہ مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2 جنوری کو شہر کی مساجد سے کشمیری جدوجہد آزادی کے حق میں اعلانات کیے جائیں گے، 4 جنوری کو نمازِ مغرب کے بعد سینٹرل پریس کلب کے سامنے مشعل بردار ریلی نکالی جائے گی، جبکہ 5 جنوری یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر برہان وانی شہید چوک سے ایک بڑی ریلی اقوامِ متحدہ کے مبصر دفتر تک پہنچے گی، جہاں 5 جنوری 1949 کی قرارداد کی روشنی میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

رہنماؤں نے دارالحکومت مظفرآباد کے عوام، مہاجرین و انصار سے اپیل کی کہ وہ حقِ خودارادیت ریلی میں بھرپور شرکت کر کے کشمیری عوام سے یکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں سرکاری ملازمت کیلئے عمر کی حد بڑھا دی گئی، نوٹیفکیشن جاری

پریس کانفرنس میں نوجوان رہنماؤں محمد اسلم انقلابی، محمد فیاض خان، لیاقت علی رانا، امتیاز عزیز خان، سید خالد شاہ، شاہد نسیم، چوہدری محمد مقبول اور دیگر بھی موجود تھے۔

Scroll to Top