جعلی تصویر، پی ٹی آئی لیڈرکا آرمی کیپٹن سے متعلق دعویٰ بے بنیادنکلا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیڈر شہباز گل کے حالیہ وی لاگ میں ایک دعوے نے خبروں کی زینت بننے کی کوشش کی، جس میں کہا گیا تھا کہ ایک پاکستانی فوجی افسر، کیپٹن عمران علی، ڈی چوک میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران نعرے بازی میں شریک ہونے پر فوجی عدالت میں پیش کیا گیا۔ تاہم تحقیقات اور حقائق کی جانچ سے یہ دعویٰ جھوٹا اور گمراہ کن ثابت ہوا ہے۔

شہباز گل نے وی لاگ میں یہ دعویٰ کیا کہ کیپٹن عمران علی نے فوجی احکامات کی تعمیل نہیں کی اور پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران کھلے عام پارٹی کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی۔ لیکن حقائق کی تصدیق سے یہ واضح ہوا کہ نہ تو کوئی ایسا فوجی افسر موجود ہے اور نہ ہی کسی عدالتِ فوج میں اس نوعیت کی کوئی کارروائی ہوئی ہے۔

مزید برآں، شہباز گل کے وی لاگ میں شیئر کی گئی تصویر بھی جعلی نکلی، جس میں ایک عام تصویر کو موجودہ فوجی افسر کی طرح پیش کیا گیا تاکہ دعوے کو مضبوط دکھایا جا سکے۔ کسی بھی مستند یا سرکاری فوجی ذرائع کی جانب سے اس معاملے کی تصدیق یا بیان جاری نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: لبرٹی چوک بلاک کرنے، ریاست مخالف نعرے بازی، پولیس اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ، پی ٹی آئی کے انتشاریوں کے خلاف مقدمہ درج

حقائق کی جانچ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ عوام میں گمراہی پیدا کرنے کے لیے گھڑا گیا ایک فرضی قصہ ہے، جس میں نہ موجود افسر کی کوئی حقیقت ہے اور نہ ہی تصویر کی تصدیق۔ اس طرح کے سیاسی طور پر حساس دعوے عوام میں بے یقینی اور انتشار پیدا کر سکتے ہیں۔

ماہرین  نے واضح کیا ہے کہ شہباز گل کے دعوے کو جعلی خبر کے زمرے میں رکھا جائے، اور عوام کو سیاسی دعووں کی تصدیق کیے بغیر شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر پھیلائی جانے والی خبروں کی تصدیق ہر صارف کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جو مذاکرات کی بات کرے وہ عمران خان کا ساتھی نہیں، علیمہ خان

Scroll to Top