دنیا بھر میں پسند کیا جانے والا نرم نان آج جنوبی ایشیا کے دسترخوان کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ نان مکھن میں تیار کردہ چکن سمیت مختلف کھانوں کے ساتھ بڑے شوق سے کھایا جاتاہے اور خطے کی نمایاں سوغاتوں میں شمار ہوتا ہے۔
نان صرف چکن تک محدود نہیں بلکہ اسے مختلف اشیا کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، جس سے کھانے کی لذت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نان کو اس خطے میں خاص مقام حاصل ہے اور اس کی کئی اقسام اور ذائقے موجود ہیں۔
وقت کے ساتھ نان کی مقبولیت سرحدوں سے نکل کر دنیا بھر تک پھیل چکی ہے۔ حال ہی میں پنیری گارلک نان کو معروف فوڈ پلیٹ فارم ’ٹیسٹ ایٹلس‘ نے دنیا کی بہترین بریڈز میں شامل کیا۔ اس نان کو تازہ مکھن گرم نان پر لگا کر تیار کیا جاتا ہے اور اس پر لہسن کے ٹکڑے چھڑکے جاتے ہیں۔ اسی فہرست میں آلو نان کا نام بھی شامل ہے، جو اس روٹی کی مختلف اقسام کی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
تاہم یہ حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ نان، جو آج ہر خاص و عام کو باآسانی دستیاب ہے، ماضی میں صرف مسلمان بادشاہوں کے دسترخوان تک محدود ہوا کرتاتھا۔ ایک زمانے میں یہ روٹی شاہی باورچی خانوں کی زینت سمجھی جاتی تھی، جہاں مخصوص طریقوں سے اسے تیار کیا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ شاہی کھانوں سے نکل کر عوامی دسترخوان تک پہنچی۔
نان کی ابتدا کے بارے میں تاریخ مکمل طور پر واضح نہیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ روٹی کی یہ قسم قدیم فارس سے جڑی ہوئی ہے۔ نان کا نام فارسی زبان سے ماخوذ بتایا جاتا ہے۔ قدیم دور میں فارسی باشندے پانی اور آٹے کی مدد سے روٹی تیار کرتے تھے، جسے تپتے ہوئے پتھروں پر پکایا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزن کم کرنے میں مددگار غذائیں کونسی ہیں؟ ماہرین کی رپورٹ
13ویں سے 16ویں صدی کے دوران ہندوستان کی فتوحات کے ساتھ یہ روٹی برصغیر پہنچی۔ مسلمان فاتحین اپنے ساتھ پکوانوں کی روایت بھی لائے، جبکہ مغربی اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد تندور بھی ساتھ لائے۔ اس طرح نان برصغیر کے کھانوں کا حصہ بنتی چلی گئی۔
سلطنت دلی کے ادوار کی دستاویزی روایت بیان کرنے والے امیر خسرو نے اپنی تصانیف میں نان کی دو اقسام کا ذکر کیا ہے، جن میں نانِ تنوک اور نانِ تنوری شامل ہیں۔ ان تحریروں سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں نان روٹی مختلف انداز میں تیار کی جاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:الارم بجنے سے پہلے آنکھ کیوں کھل جاتی ہے؟ محققین نے راز بتا دیا
سلطنت دلی کے زمانے میں نان زیادہ تر کباب اور قیمے کے ساتھ کھایاجاتا تھا۔ شاہی باورچیوں نے نان کی تیاری میں نئے طریقے متعارف کروائے اور خمیر کا استعمال شروع کیا، جو اس دور میں ایک نئی پیش رفت سمجھی جاتی تھی۔ یوں نان نے شاہی باورچی خانوں سے نکل کر رفتہ رفتہ عوامی زندگی میں جگہ بنائی۔




