گلگت بلتستان میں درآمدات پر کونسی اشیاء کوٹیکس سے استثنیٰ ہوگا؟ایف بی آر کی وضاحت جاری

اسلام آباد:گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ کے حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے وضاحت جاری کردی۔

ایف بی آر کے مطابق ٹیکس استثنیٰ کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایک جامع اور مضبوط نظام وضع کیا گیا ہےجس کے تحت ملک کے دیگر حصوں میں تاجروں اور کاروباری برادری کے مفادات متاثر نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکس چوری کرنیوالے نجی ہسپتالوں،اداروں کیخلاف ایف بی آر نے بڑا اقدام اٹھالیا

ایف بی آر نے واضح کیاکہ گلگت بلتستان کو ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 گلگت بلتستان میں لاگو نہیں کیے گئے ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے درآمد کی جانے والی صرف وہی اشیا ٹیکس استثنیٰ کی حقدار ہوں گی جو گلگت بلتستان کی حدود میں استعمال کی جائیں گی جبکہ گلگت بلتستان کے لیے درآمد کی جانے والی اشیا کی سالانہ ٹیکس استثنیٰ کی حد 4 ارب روپے مقرر کی گئی ہے۔

ادارے کے مطابق اس پالیسی کو شفاف اور مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔

وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ حکومتِ گلگت بلتستان ٹیکس فری اشیا کے استعمال کے لیے ہر تاجر کا کوٹہ مقرر کرے گی اور یہ تمام کوٹے مجموعی طور پر 4 ارب روپے کی سالانہ حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان کسٹمز (ویب بی او سی) سسٹم کے ذریعے ان کوٹہ جات کی نگرانی خودکار ماڈل کے تحت کی جا رہی ہے، جبکہ کسی تاجر کا مقررہ کوٹہ ختم ہونے پر خودکار سسٹم مزید ٹیکس فری درآمدات کو بلاک کر کے قانون کے مطابق قابلِ اطلاق ٹیکس وصول کرے گا۔

ایف بی آر کے مطابق حکومتِ گلگت بلتستان نے باضابطہ طور پر اس بات کا عہد کیا ہے کہ ٹیکس سے مستثنیٰ اشیا کا استعمال صرف گلگت بلتستان کی حدود میں ہی ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آرکو بڑے ریونیو شارٹ فال کا سامنا

پاکستان کسٹمز نے ایسی اشیا کی گلگت بلتستان سے ملک کے دیگر حصوں میں منتقلی کی روک تھام کے لیے انفورسمنٹ کا طریقۂ کار بھی وضع کر لیا ہے، اور جی بی حکومت و تاجروں کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے مطابق کسی بھی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

ایف بی آر نے ملک بھر کی کاروباری برادری اور تاجروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ استثنائی نظام جائز تجارتی مفادات کو نقصان نہیں پہنچائے گااور اس سہولت کا مقصد صرف گلگت بلتستان کے عوام اور معیشت کی بہتری ہے۔

Scroll to Top