بھارتی ریاست اترپردیش کے باغپت ضلع میں چوہدریوں کی جانب سے منعقدہ ایک بڑی پنچایت نے حیران کن فیصلے جاری کیے، جنہوں نے وہاں موجود تمام افراد کو دنگ اور پریشان کر دیا۔ اس پنچایت میں بچوں کے اسمارٹ فون استعمال، لباس اور شادیوں کے حوالے سے ایسے فیصلے کیے گئے، جو عام توقعات سے بالکل مختلف ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، پنچایت نے اعلان کیا کہ اب 18 سال سے کم عمر لڑکوں کو اسمارٹ فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی، کم عمر لڑکوں کے ہاف پینٹ (شارٹس) پہننے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ معاشرتی اقدار اور نظم و ضبط کو فروغ دیا جا سکے۔ پنچایت کے یہ فیصلے مقامی معاشرے میں بچوں کی روزمرہ زندگی اور ان کی عادات پر براہ راست اثر ڈالیں گے۔
شادیوں کے حوالے سے بھی پنچایت نے ایک منفرد اور غیر معمولی فیصلہ صادر کیا۔ ہالز اور بینکوئٹ میں شادیاں منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پنچایت نے شادی کارڈز کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے یہ بھی ہدایت کی کہ اب شادی کارڈز کو واٹس ایپ کے ذریعے ہی قبول کیا جائے۔ پنچایت کے پنچوں نے اس پابندی کی وجہ یہ بیان کی کہ ہالز اور بینکوئٹ میں ہونے والی شادیاں اکثر ٹوٹ جاتی ہیں، اس لیے یہ تقریب گھروں میں منعقد کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔
پنچایت میں موجود پنچوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف باغپت ضلع تک محدود نہیں بلکہ پورے اترپردیش میں نافذ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے باقی تمام کھاپس سے رابطہ کیا جائے گا اور ایک مہم کے ذریعے معاشرے میں اس فیصلے کی آگاہی اور عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ پنچایت کے پنچوں کے مطابق، یہ اقدام معاشرتی مفاد میں ہے اور اس سے شادیوں اور بچوں کی عادات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اس فیصلے نے نہ صرف مقامی افراد بلکہ بھارتی میڈیا اور دیگر علاقوں میں بھی کافی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ اس میں بچوں کے روزمرہ کے معمولات اور شادیوں کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پنچایت کے یہ اقدامات مقامی معاشرتی روایات اور اخراجات کے حوالے سے ایک نیا رجحان قائم کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ پنچایت کے فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کچھ مقامی پنچایتیں سماجی نظم و ضبط، اخراجات اور معاشرتی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی منفرد اور غیر روایتی اقدامات بھی کر سکتی ہیں، جن کا اثر معاشرے میں واضح طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔




