آزاد کشمیر: جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے رواں برس آزاد کشمیر میں بارشیں اور پہاڑوں پر برفباری تشویشناک حد تک کم رہی ہیں۔ برف باری نہ ہونے کی وجہ سے گرمیوں میں پانی کی شدید کمی کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے فصلیں اور معمولات زندگی متاثر ہونے کے واضح امکانات ہیں۔
آزاد کشمیر میں بہنے والے ندی نالوں میں پانی کی مقدار کم ہو چکی ہے جبکہ صدیوں پرانے چشمے سوکھ گئے ہیں۔ جو چشمے موجود ہیں ان میں بھی پانی کی شدید کمی دیکھی جا رہی ہے۔ آزاد کشمیر کے آسمان پر گزشتہ دو تین دن سے بادل موجود ہیں، تاہم محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کل یا پرسوں ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مغربی ہواؤں کا سسٹم مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سبب بن سکتا ہے۔ کشمیر میں بھی اس موسمی نظام کے تحت وقفے وقفے سے بارش اور درمیانے درجے کی برفباری متوقع ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 29 دسمبر کی رات سے مغربی ہواؤں کا ایک سسٹم مغربی علاقوں کی جانب بڑھے گا اور 30 دسمبر سے طاقتور ہو جائے گا۔ 31 دسمبر کو یہ نظام زیادہ تر وسطی اور بالائی علاقوں کو متاثر کرے گا اور 2 جنوری کی صبح تک بالائی علاقوں میں برقرار رہے گا۔
متوقع بارش اور برفباری:
30 دسمبر کی شام سے 2 جنوری کی صبح تک گلگت بلتستان (دیامر، استور، غیزر، سکردو، ہنزہ، گلگت، گانچے، شگر) اور کشمیر (وادی نیلم، مظفرآباد، پونچھ، حٹیاں، باغ، ہیولی، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر، میرپور) میں وقفے وقفے سے بارش اور درمیانے درجے کی برفباری متوقع ہے۔
متوقع اثرات اور ہدایات:
برفباری کی وجہ سے ناران، کاغان، دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ، استور، ہنزہ، سکردو، مری، گلیات، وادی نیلم، باغ، پونچھ، ہیولی میں سڑکیں بند یا پھسلنے کے خطرات ہیں۔بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈ یا آولانچ کا امکان ہے۔سیاحوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور اضافی احتیاط برتیں۔وسطی اور جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ میں دھند کا امکان کم ہو جائے گا۔دن کے درجہ حرارت میں آئندہ ہفتے مزید کمی متوقع ہے۔




