پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پنجاب کے دورے کے دوران ناروا سلوک پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو سخت خط لکھ دیا۔ خط میں انہوں نے دورے کے دوران اختیار کیے گئے طرزِ عمل پر شدید احتجاج اور باضابطہ اعتراض ریکارڈ کرایا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب کے دورے کے دوران پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزی کی گئی اور تضحیک آمیز رویہ اپنایا گیا۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت کا یہ طرزِ عمل آئینی عہدے کے وقار اور بین الصوبائی احترام کے منافی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ دورے کے لیے غیر ضروری سکیورٹی اقدامات کیے گئے اور ایسا ماحول بنایا گیا جس سے ہراساں کرنے کا تاثر پیدا ہوا۔
سہیل آفریدی نے خط میں نشاندہی کی کہ ان کے دورے کے دوران بازار بند کیے گئے، عوامی مقامات سیل کیے گئے اور موٹروے ریسٹ ایریاز تک رسائی روکی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نقل و حرکت محدود کرنے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خط کے مطابق پنجاب میں وزیراعلیٰ کے دورے کے دوران خوف اور دھمکی کا تاثر دیا گیا، جو ایک آئینی عہدے کے شایانِ شان نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت 5 ایم پی ایز اشتہاری قرار
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے خط میں مزید لکھا کہ دورے کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر منظم انداز میں کردار کشی کی مہم چلائی گئی۔ ان کے مطابق ریاست سے منسلک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کردار کشی ناقابل قبول ہے۔ خط میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ پر منشیات سے متعلق سنگین اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے، جبکہ بغیر ثبوت الزامات آئینی عہدے کی تذلیل کے مترادف ہیں۔
سہیل آفریدی نے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ پروٹوکول کی توہین، پولیس نمائش اور ڈیجیٹل کردار کشی ایک منظم منصوبے کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا طرزِ عمل وفاقی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت انتظامی اور ڈیجیٹل سطح پر ایسے رویے کو معمول بننے سے روکے۔
یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کا مریم نواز کو کے پی میں جلسے کا چیلنج،کئی شکوے بھی کردیئے
وزیراعلیٰ مریم نواز کے نام لکھے گئے اس خط میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے پر شدید احتجاج درج کراتے ہوئے باضابطہ اعتراض ریکارڈ کرایا اور اس طرزِ عمل کو ناقابل قبول قرار دیا۔




