ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے مہنگائی سے متاثرہ شہریوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق کوئٹہ اور پشاور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے سرفہرست رہے، جہاں چند دنوں کے دوران آٹے کے تھیلوں اور ریٹیل قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس صورتحال پر تاجر اور ڈیلرز نے حکومتی پالیسیوں اور بین الصوبائی پابندیوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیر کو سامنے آنے والی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ پشاور میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے اور یہ رجحان مسلسل جاری ہے۔ چند ہی دنوں میں 20 کلوگرام آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 200 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 2,650 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ریٹیل مارکیٹ میں فی کلوگرام آٹا 10 روپے اضافے کے بعد 140 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
پشاور کے ڈیلرز کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ پنجاب سے خیبر پختونخوا کو آٹے کی فراہمی پر عائد پابندیاں ہیں۔ ان پابندیوں کے باعث مارکیٹ میں سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور طلب کے مقابلے میں آٹے کی دستیابی کم ہو گئی ہے، جس کا براہ راست اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
صورتحال کو قابو میں رکھنے اور قیمتوں میں استحکام پیدا کرنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری گوداموں سے آٹے کی ملوں کو گندم کی فراہمی شروع کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس سے قبل پیش کیا جائے گا تاکہ اس حوالے سے فوری فیصلہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی : مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے اچھی خبر، ایل پی جی کی قیمت میں 10روپے فی کلو کمی
دوسری جانب کوئٹہ میں بھی آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شہر میں 20 کلوگرام آٹے کے بیگ کی قیمت 200 روپے اضافے کے بعد 2,500 روپے ہو گئی ہے، جبکہ 50 کلوگرام آٹے کے تھیلے کی قیمت 500 روپے بڑھ کر 6,250 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
کوئٹہ کے ڈیلرز کے مطابق حکومتی گندم کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں، جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ضلعی سطح پر عائد پابندیوں نے بھی آٹے کی قیمتوں کو بڑھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپلائی چین میں رکاوٹ کے باعث قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برطانوی شہری کو ہوا سے منہ میں جانیوالا پتہ مہنگا پڑ گیا
بلوچستان فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسی کے تحت گندم کی خریداری کی ذمہ داری نجی شعبے پر عائد کی گئی ہے اور حکومت صرف نگرانی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت فوری اقدامات کرے تاکہ آٹے کی قیمتوں کو قابو میں لایا جا سکے اور عوام کو مزید مالی دباؤ سے بچایا جا سکے۔




