امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین سے جنگ کے خاتمے کے لیے انتہائی سنجیدہ ہیں۔
فلوریڈا میں یوکرینی صدر زیلنسکی سے ملاقات سے قبل امریکی صدر نے روسی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف ممالک میں تعینات 30 سفارت کاروں کو عہدوں سے ہٹا دیا
ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پیوٹن کے ساتھ ان کی 75 منٹ طویل گفتگو ہوئی جس کے بعد انہیں یقین ہوگیا ہے روس جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ کاکہنا تھا کہ امن مذاکرات اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اور اس حوالے سے بات چیت بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ یوکرین اور روس دونوں ہی جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں اور وہ زیلنسکی سے ملاقات کے بعد ایک بار پھر پیوٹن سے رابطہ کریں گے۔
اس سے قبل اکتوبر میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے زیلنسکی سے ملاقات کی تھی، ملاقات کے بعد ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجوزہ امن معاہدے کی کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہیں، تاہم یہ یوکرین کے لیے بڑے معاشی فوائد کا باعث بنے گا۔
بعدازاں زیلنسکی سے ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ“ہم بات چیت کے آخری مراحل میں ہیں، اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، بصورت دیگر یہ جنگ طویل عرصے تک چل سکتی ہے۔”انہوں نے واضح کیا کہ امن عمل کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی۔
امریکی صدر نے بتایا کہ زیلنسکی سے ملاقات سے قبل انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی بات کی، جو ان کے بقول امن کے معاملے پر “انتہائی سنجیدہ” ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ یوکرین کی سلامتی کی ضمانت کے لیے ایک مضبوط معاہدہ کیا جائے گا، جس میں یورپی ممالک بھی شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: روسی صدر سے امریکی وفد کی 5گھنٹے طویل ملاقات،پیوٹن نے یورپ کو انتباہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا اب اصل اقوام متحدہ بن چکا ہے، 11 مہینوں میں 8 جنگوں کو ختم کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا خوشی ہے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ رک گئی ۔ امید ہے معاہدے کے بعد دونوں ملک امن سے رہیں گے۔




