سال 2025 میں پاکستان میں مجموعی طور پر مہنگائی نسبتاًکم رہی، تاہم سال کے آخری مہینوں میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی تقریباً 6 فیصد تک پہنچ گئی ۔
ادارہ شماریات کے مطابق چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 229 روپے فی کلو ریکارڈ کی گئی۔
اہم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ:
آٹا 20 کلو ، 56.2 فیصد اضافہ، 1794.93 سے بڑھ کر 2199.25 روپے،مرغی ، 3.8فیصد اضافہ، 409.22 سے 424.89 روپے فی کلوبیف ، 1026.85 سے بڑھ کر 1160.46 روپے ۔
گڑ ، 12.5 فیصد اضافہ، 208.16 سے 234.21 روپے،کیلا ، 11.2 فیصداضافہ، 119.5 سے 132.43 روپے فی در جن ،ا نڈے ، 9.7 فیصد اضافہ، 337.22 سے 369.96 روپے فی درجن رہے ۔
باسمتی چاول ، 5.5 فیصد اضافہ، 203.34 سے 214.45 روپے، فی کلودودھ ، 3.8 فیصد اضافہ، 197.4 سے 203.51 روپے فی لٹر،دہی ، 3.5 فیصد اضافہ، 231.6 سے 239.21 روپے ۔
گھی 2.5 کلو ، 4.7 فیصد اضافہ، 1465.14 سے 1533.55 روپے،گیس چارجز ، 29.85 فیصداضافہ ،جلانے والی لکڑی کی قیمت میں 11.02 فیصد اضافہ ہوا ۔
کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی:
ٹماٹر ، 75 فیصد کمی، 255 سے 64.2 روپے، فی کلوآلو ، 50 فیصدکمی، 113.8 سے 56.78 روپے،لہسن ، 38 فیصد کمی، 688.64 سے 425.81 روپے ،دالیں ، مونگ، 1 فیصد مسور 6.6 فیصد ۔
چنا 30 فیصد، ماش 13فیصد کمی ،پیاز 29 فیصد کمی، 129.13 سے 91.39 روپے،چائے 190 گرام اور 14 واٹ انرجی سیور 18فیصد کمی، ماچس کی قیمت مستحکم، 6.24 روپے رہی ۔
مجموعی طور پر سال 2025 میں کچھ اہم اشیاء مہنگی ہوئیں جبکہ دیگر مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئیں، جس سے صارفین کے بجٹ پر مجموعی اثر معتدل رہا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دالیں، چاول اور مصالحہ جات کی ہول سیل اور ریٹیل سطح پر نئی سرکاری قیمتیں مقرر




