خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں پولیس نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر ایک کامیاب اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ کئی دہشت گرد زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔
پولیس حکام کے مطابق شدت پسند عناصر کی علاقے میں موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی، جن کے بارے میں خدشہ تھا کہ وہ تخریبی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ طور پر کارروائی کی ۔
سکیورٹی فورسز نے مشتبہ مقام کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا ۔ پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے فورسز کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔
کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے اس مقابلے میں 8 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد دہشت گرد زخمی ہونے کے بعد قریبی علاقوں کی طرف فرار ہو گئے ۔
پولیس نے کارروائی کے دوران جائے وقوعہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ ، دستی بم ، گولیاں ، خودکار ہتھیار اور حساس مواد برآمد کیا ، جو مبینہ طور پر دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جانا تھا ۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مارے گئے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا اور وہ ماضی میں بھی مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں بھارتی سرپرستی والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں، 9 خوارج ہلاک
زخمی ہو کر فرار ہونے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے جبکہ قریبی علاقوں میں ناکہ بندی بھی قائم کر دی گئی ہے ۔
آپریشن کے بعد علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں ۔
پولیس ترجمان کے مطابق سکیورٹی اہل کاروں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بڑے ممکنہ خطرے کو بروقت ناکام بنایا ۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کرک میں امن و امان کی صورت حال مکمل طور پر قابو میں ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور کسی بھی شرپسند عنصر کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی ۔




