اسلام آباد (28 دسمبر 2025) برطانیہ کے معروف جریدے دی ٹیلیگراف نے اپنی تازہ اشاعت میں لکھا ہے کہ پاکستان نے واشنگٹن میں دوبارہ نمایاں حیثیت حاصل کر لی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے پہلے دورِ صدارت میں کشیدہ تعلقات کے باوجود وائٹ ہاؤس میں غیر معمولی پذیرائی حاصل کی ہے۔
دی ٹیلیگراف نے اپنی اشاعت میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حوالے سے سنسنی خیز تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلقات میں اہم موڑ مارچ میں آیا، جب پاکستان نے افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کے مرکزی ملزم محمد شریف اللہ المعروف جعفر کو گرفتار کر کے فوری طور پر واشنگٹن بھیج دیا۔ اس حملے میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں اس تعاون کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
اخبار کے مطابق یہ پیش رفت صدر ٹرمپ کے پہلے دور کے بالکل برعکس تھی، جب انہوں نے پاکستان پر الزامات عائد کیے تھے کہ وہ امریکی امداد لیتے ہوئے شدت پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے۔ اس بار پاکستانی حکام نے منظم سفارتی حکمتِ عملی کے ذریعے واشنگٹن میں اپنا تاثر بہتر بنایا۔
پاکستان نے پردے کے پیچھے ٹرمپ انتظامیہ کی انسداد دہشت گردی کی ترجیحات میں تعاون فراہم کیا۔ مارچ میں امریکی الزامات کے چند دنوں بعد ملزم امریکا منتقل کیا گیا، جسے دونوں ممالک نے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ ایک سینئر پاکستانی عہدیدار نے اسے “سب سے اہم قدم” قرار دیا جبکہ ایک سابق امریکی عہدیدار نے اسے بڑی کامیابی بتایا۔
اپریل میں جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے دوران بھی پاکستان کا کردار نمایاں رہا، جب بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا اور میزائل حملے کیے۔ پاکستان نے فضائی اور توپ خانے کے جوابی حملے کیے، جس سے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کا خدشہ پیدا ہوا۔ اس دوران پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا، جبکہ بھارت نے کسی ثالثی کو مسترد کیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ سفارتی حکمتِ عملی واشنگٹن میں اس کی حیثیت کو مستحکم کرنے میں مددگار رہی۔ ایٹلانٹک کونسل کے سینئر فیلو مائیکل کوگل مین کے مطابق “پاکستان خوشامد کرنے پر آمادہ ہے، جبکہ بھارت سمیت کئی ممالک ایسا نہیں کرتے”۔
یہ بھی پڑھیں: مئی میں پاک بھارت کشیدگی نے پاکستان کی دفاعی اور سفارتی ساکھ مضبوط کی: عالمی جریدہ
واشنگٹن میں لابنگ میں دونوں ممالک سرگرم رہے۔ بھارت نے ٹرمپ مہم کے سابق مشیر جیسن ملر کی خدمات حاصل کیں، جبکہ پاکستان نے بااثر لابنگ فرموں کی خدمات حاصل کیں، جن میں جیولن ایڈوائزرز بھی شامل تھی، جسے ٹرمپ کے قریبی ساتھی کیتھ شلر اور جارج سوریل نے قائم کیا۔
جون میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا واشنگٹن دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نمایاں علامت بن گیا۔ جنرل منیر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ نجی اور غیر اعلانیہ ملاقات میں دوپہر کا کھانا بھی کھایا، جسے پاکستان میں غیر معمولی قرار دیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے بعد ازاں کئی مواقع پر جنرل منیر کی تعریف کی اور انہیں اپنا “پسندیدہ فیلڈ مارشل” قرار دیا۔
معاشی پہلو بھی تعلقات میں اہم رہے۔ چین کے معدنیات پر اثر و رسوخ کے تناظر میں پاکستان نے امریکا کو اپنے وسیع معدنی ذخائر تک رسائی کی پیشکش کی۔ ستمبر میں دونوں ممالک نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کے تحت پاکستان کے تقریباً 6 کھرب ڈالر مالیت کے معدنی وسائل امریکی کمپنیوں کے لیے کھولے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان سے شکست،فیلڈ مارشل کا نام سنتے ہی مودی چھپ جاتا ہے، بلاول بھٹو
تاہم، پاکستان کی کمزور معیشت اور ماضی میں شدت پسند گروہوں سے تعلقات واشنگٹن میں تشویش کا باعث رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں نے اسے ٹرمپ کے واشنگٹن میں نمایاں رسائی دلائی ہے، مگر اس مقام کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد کو مسلسل ٹھوس نتائج دینے ہوں گے۔




