شارجہ میں منعقد ہونے والے 54 ویں شیخ محمد بن زاید کیمل ریسنگ فیسٹیول میں پاکستانی نوجوان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر دیا۔ اس بین الاقوامی مقابلے میں 50 سے زائد ممالک کے نوجوانوں نے شرکت کی، جہاں سخت مقابلے کے باوجود پاکستان کے 18 سالہ نوجوان احسن یاسین نے کامیابی اپنے نام کی۔
دستیاب معلومات کے مطابق شیخ محمد بن زاید یوتھ کیمل ریس شارجہ میں منعقد ہوئی، جس میں نوجوانوں کے درمیان دو کلومیٹر کی ریس رکھی گئی۔ پاکستانی نوجوان احسن یاسین نے غیر معمولی مہارت، برداشت اور رفتار کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقررہ فاصلہ 3 منٹ اور 47 سیکنڈ میں مکمل کیا اور پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔ اس کامیابی کے نتیجے میں انہیں گولڈن کیمل ٹرافی سے نوازا گیا۔
ریس کے آغاز پر احسن یاسین کی پوزیشن چھٹی تھی، تاہم ریس کے دوران انہوں نے بتدریج اپنی رفتار بہتر بنائی اور دیکھتے ہی دیکھتے دیگر تمام شرکا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ان کی اس شاندار کارکردگی نے نہ صرف شائقین بلکہ منتظمین کو بھی متاثر کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ احسن یاسین نے 50 ہزار درہم کی انعامی رقم بھی حاصل کی، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 38 لاکھ روپے بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے پاکستان کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان
احسن یاسین نہ صرف کیمل ریسنگ میں سرگرم ہیں بلکہ وہ انجینئرنگ کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دبئی کے ہیریٹیج سینٹر میں باقاعدہ ٹریننگ بھی کرتے ہیں، جہاں انہیں کیمل ریسنگ سے متعلق عملی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کی محنت، لگن اور مسلسل مشق اس کامیابی میں نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔
مقابلے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے احسن یاسین نے کہا کہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بلند دیکھنا ان کے لیے ناقابلِ بیان خوشی کا باعث ہے۔ ان کے اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کامیابی ان کے لیے صرف ذاتی اعزاز نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے باعثِ فخر ہے۔ شیخ محمد بن زاید یوتھ کیمل ریس میں یہ فتح پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں اور عالمی سطح پر ان کی موجودگی کا واضح ثبوت ہے۔




