وفاقی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی ملک میں موبائل فون کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ایک نئی موبائل فون لیزنگ پالیسی پر کام کر رہی ہے ۔
اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ افراد کو موبائل فون تک رسائی فراہم کرنا اور عوام میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھانا ہے ۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے بتایا کہ پالیسی کے ابتدائی مسودے پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری ہے، جس میں موبائل فون کمپنیوں اور آپریٹرز کو خاص طور پر شامل کیا گیا ہے تاکہ پالیسی مارکیٹ کی ضروریات اور عملی تقاضوں کے مطابق تیار کی جا سکے ۔
شزا فاطمہ کے مطابق وزارت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد پالیسی کو حتمی شکل دی جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد موبائل فون استعمال کر سکیں ۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی میں مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں موبائل فونز کی درآمدی قیمت پر عائد ٹیکس میں کمی بھی شامل ہو سکتی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاک آئی ڈی ایپ ،نادرا کی تمام خدمات موبائل فون پردستیاب
اگر یہ عمل ممکن ہوا تو فونز کی قیمت میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے عوام کے لیے موبائل فون حاصل کرنا آسان ہو جائے گا اور ملک میں ڈیجیٹل سہولیات کے استعمال میں اضافہ ہوگا ۔
وفاقی وزیر نے ماضی کے تجربات کا بھی حوالہ دیا اور بتایا کہ پہلے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو موبائل فون ٹیکس فری رجسٹریشن کی سہولت دی گئی تھی، مگر اس کا غلط استعمال ہوا ۔
کئی افراد نے دوسروں کے پاسپورٹس کے ذریعے فون رجسٹر کروائے جس سے فراڈ کے کیسز میں اضافہ ہوا اور بعض ادارے بھی اس میں ملوث پائے گئے۔ نتیجتاً فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے یہ سہولت ختم کر دی تھی ۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت مجموعی طور پر موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کی خواہاں ہے ، مگر ایف بی آر کے مطابق زیادہ تر موبائل فونز اب پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں۔
اس لیے ٹیکس میں کمی کے معاملے پر مزید غور و فکر ضروری ہے ۔ ان کے بقول ، وزارت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ نئی پالیسی عوام کیلئے فائدہ مند ہو اور نظام میں کسی قسم کی بدعنوانی یا مشکلات پیدا نہ ہو ۔




