جہیز پر پابندی کا بل قومی اسمبلی میں پیش، منظورنہ ہو سکا

اسلام آباد (26 دسمبر 2025):قومی اسمبلی میں جہیز پر پابندی سے متعلق ایک اہم بل پیش کیا گیا، تاہم یہ بل منظوری حاصل نہ کر سکا۔ پیش کیے گئے بل میں جہیز کو غیر قانونی قرار دینے اور اس روایت کے خاتمے کے لیے سزاؤں سے متعلق تجاویز شامل تھیں، لیکن قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے اسے مسترد کر دیا۔

جہیز کو معاشرے میں ایک ایسا عمل قرار دیا جاتا ہے جس کا بوجھ زیادہ تر لڑکی کے والدین پر پڑتا ہے۔ اس روایت کے باعث بہت سے والدین کو مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بعض خاندان اس بوجھ کو برداشت کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ انہی حالات کے تناظر میں قومی اسمبلی کی رکن شرمیلہ فاروقی نے جہیز کے خلاف یہ بل ایوان میں پیش کیا۔

بل کا مقصد جہیز کو قانونی طور پر ممنوع قرار دینا تھا۔ اس میں یہ تجویز بھی شامل کی گئی تھی کہ والدین کو بیٹی کی شادی کے موقع پر صرف رضاکارانہ تحائف دینے کی اجازت ہو، جبکہ کسی قسم کے دباؤ یا مطالبے کو غیر قانونی سمجھا جائے۔ اس بل پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں تفصیلی بحث بھی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ثاقب مجید راجا، بریگیڈیئر(ر) محمد خان آج ن لیگ میں شامل ہونگے

بحث کے دوران شرمیلہ فاروقی نے بل کی حمایت میں اپنا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے جہیز کے باعث پیدا ہونے والے مختلف مسائل پر توجہ دلائی، جن میں لڑکیوں کی زندگیوں پر دباؤ، والدین پر مالی بوجھ، شادیوں میں امتیازی رویے اور بعض صورتوں میں تشدد جیسے معاملات شامل ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ تمام مسائل معاشرے میں عدم توازن کو جنم دیتے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بل کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا، تاہم آخرکار کمیٹی نے اس عوامی نوعیت کے بل کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی کی جانب سے بل مسترد کیے جانے کی ممکنہ وجوہات میں معاشرتی روایات، قانونی پیچیدگیاں اور اس قانون کے نفاذ میں درپیش مشکلات کو شامل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹیکس چوری کرنیوالے نجی ہسپتالوں،اداروں کیخلاف ایف بی آر نے بڑا اقدام اٹھالیا

یوں جہیز کے خلاف پیش کیا گیا یہ بل قومی اسمبلی کی سطح پر منظوری حاصل نہ کر سکا، اور معاملہ قائمہ کمیٹی میں ہی مسترد ہو گیا۔

Scroll to Top