بھارت کی ریاست پنجاب کے ضلع فتح گڑھ صاحب کے ایک گاؤں میں مسجد کی تعمیر کیلئے75 سالہ سکھ خاتون نے اپنی زمین عطیہ کر دی جبکہ سکھ اور ہندو خاندانوں نے مالی تعاون فراہم کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جکھوالی گاؤں میں پیش آیا جو بنیادی طور پر سکھ آبادی پر مشتمل ہے تاہم یہاں ہندو اور مسلم خاندان بھی آباد ہیں، گاؤں میں گوردوارہ اور مندر تو موجود تھا مگر مسجد نہ ہونے کے باعث مسلم باشندوں کو نماز کے لیے قریبی گاؤں جانا پڑتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بابری مسجد کے انہدام کی 33 ویں برسی ، اُمت مسلمہ کے زخم آج بھی تازہ ہیں : پاکستان
زمین عطیہ کرنے والی خاتون بی بی راجندر کور نے بتایا کہ انہوں نے مسلم ہمسایوں کی اس مشکل کو دیکھتے ہوئے تقریباً 5 مرلے زمین مسجد کے لیے دینے کا فیصلہ کیا۔
ان کے پوتے ستنام سنگھ کے مطابق گاؤں میں سکھ، ہندو اور مسلمان برسوں سے ساتھ رہتے آرہے ہیں اور ہر مذہبی موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق زمین بی بی راجندر کور کے نام تھی جسے قانونی طور پر مسلم کمیٹی کے نام منتقل کر دیا گیا۔
گاؤں کے پنچ اور خاندان کے ایک رکن مونو سنگھ نے کہا کہ سرکاری زمین مذہبی تعمیر کے لیے نہیں دی جا سکتی تھی اس لیے ذاتی زمین عطیہ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ،مسجد کے احاطے میں چوہے چھوڑنے والے ملزم کو 18ماہ قید
مسجد کمیٹی کے صدر کالا خان نے اس اقدام پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف برادریوں کے درمیان تعلقات مثالی ہیں اور امید ہے کہ مسجد کی تعمیر فروری تک مکمل ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ دیا اور اب تک ساڑھے 3 لاکھ بھارتی روپے جمع ہوچکے۔




