سپریم کورٹ جج کی خالی آسامی پر خالد یوسف چوہدری تعینات، وزیراعظم نے منظوری دیدی

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)سپریم کورٹ آزاد جموں وکشمیرمیں جج کی خالی آسامی پر تعیناتی کے معاملے پر اہم پیشرفت  ہوئی ہے ۔

چیئرمین آزاد جموں وکشمیر کونسل(وزیراعظم پاکستان) میاں محمد شہباز شریف نے خالد یوسف چوہدری کوسپریم کورٹ آزادکشمیر کا مستقل جج مقرر کرنے کی منظوری دیدی۔

میڈیارپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے وزیراعظم آزادکشمیر کی سمری کی منظوری دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر کو خالد یوسف چوہدری کی تعیناتی کی تجویز دی۔ وزیراعظم کی جسٹس خالد یوسف چوہدری کوسپریم کورٹ آزادکشمیر کا مستقل جج مقرر کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر بھر کے تعلیمی ادارے 26 دسمبر کو بند، تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

اس سے قبل سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں جج کی خالی آسامی کو پُر کرنے کیلئے تین رکنی پینل تشکیل دے کر چیئرمین کشمیر کونسل وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف کو ارسال کر دیا گیا تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کسی دوسرے شخص کے نام رجسٹرڈ سم کا استعمال خلاف قانون،کارروائی ہوگی،پی ٹی اے

معتبر ذرائع کے مطابق اس پینل میں نامور قانونی ماہرین خالد یوسف، شیخ مسعود اور راجہ سجاد کے نام شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق پینل کی تیاری آئینی و قانونی تقاضوں کے عین مطابق کی گئی ہے اور اس میں شامل امیدواران کے عدالتی تجربے، قانونی مہارت اور پیشہ ورانہ خدمات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

اس اقدام کا بنیادی مقصد سپریم کورٹ میں موجود خالی آسامی کو بروقت پُر کرنا اور عدالتی امور کو مزید مؤثر اور منظم بنانا ہے۔

پینل چیئرمین کشمیر کو ارسال کیے جانے کے بعد متعلقہ آئینی فورمز پر اس پر غور کرنے کے بعد تقرری سے متعلق حتمی فیصلہ سامنے آگیا۔

قانونی حلقوں نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ تقرری کا عمل مکمل میرٹ، شفافیت اور آئینی روح کے مطابق مکمل کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں جج کی بروقت تقرری سے نہ صرف زیرِ التواء مقدمات کے بوجھ میں کمی آئے گی بلکہ اعلیٰ عدلیہ کی کارکردگی اور ادارہ جاتی استحکام بھی مزید مضبوط ہوگا، جس سے عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بڑھے گا

Scroll to Top