مظفرآباد (25 دسمبر 2025) ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے پیرا میڈیکل اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے نجی تعلیمی اداروں سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے حکومت آزاد جموں و کشمیر اور محکمہ صحت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی پالیسی پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد کریں۔ عدالت نے نجی اداروں کی جانب سے دائر رِٹ پٹیشنز کو خارج کر دیا۔
ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس سردار محمد اعجاز خان نے کہا کہ حکومت آزاد جموں و کشمیر نے 28 مارچ 2019 کو پیرا میڈیکل اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز اداروں کی رجسٹریشن اور افیلی ایشن کے لیے جامع پالیسی نافذ کر رکھی ہے۔ اس پالیسی میں اداروں کے تعلیمی معیار، نگرانی اور قانونی کارروائی کا واضح طریقہ کار موجود ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ بعض نجی پیرا میڈیکل ادارے مختلف میڈیکل اور فارماسیوٹیکل کورسز کروا رہے ہیں، جن میں لیب ٹیکنیشن، ریڈیالوجی، ڈینٹل، آپریشن تھیٹر، فارمیسی، ایمرجنسی میڈیسن اور دیگر ڈپلومہ و ڈگری پروگرام شامل ہیں۔ ان اداروں نے مختلف تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیوں سے منسلک ہونے کا دعویٰ کیا، مگر وہ مقررہ معیار اور شرائط پوری نہیں کر رہے۔ بعض اداروں نے اسپتالوں کے ساتھ کیے گئے MOUs بغیر سیکریٹری ہیلتھ کی منظوری کے کیے، جبکہ منظور شدہ نشستوں سے زیادہ طلبہ داخل کیے، جو صریحاً غیر قانونی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی ایچ او جہلم ویلی کی تمام تقرریاں کالعدم قرار:ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ
عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی ادارے کو پنجاب میڈیکل فیکلٹی، فارمیسی کونسل آف پاکستان، خیبر پختونخوا میڈیکل فیکلٹی یا متعلقہ یونیورسٹیوں کے مقررہ معیار اور قواعد کے بغیر طلبہ داخل کرنے یا ڈپلومہ و اسناد جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جو پیرا میڈیکل اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے ادارے معیار، قواعد و ضوابط اور قانونی شرائط پر پورا نہیں اترتے، انہیں بلا تاخیر بند کیا جائے کیونکہ انسانی زندگیوں کے ساتھ کسی قسم کا کھیل برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے محکمہ صحت آزاد جموں و کشمیر کو ہدایت دی کہ وہ آزاد کشمیر بھر میں قائم تمام سرکاری و نجی پیرا میڈیکل اداروں کا جامع معائنہ کرے، غیر قانونی طور پر کام کرنے والے اداروں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے، اور تین ماہ کے اندر عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار ہائی کورٹ کے پاس جمع کروائے۔
یہ بھی پڑھیں:سابق پی ٹی آئی رہنماؤں کا وزیراعظم کو خط، شاہ محمود کی پیرول پر رہائی کا مطالبہ
یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام کی صحت اور جانوں کے تحفظ کے لیے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اور تمام پیرا میڈیکل ادارے قوانین اور معیار کے مطابق کام کریں گے۔




