اسلام آباد: قومی ائیر لائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے بولی کا مرحلہ وار آغاز ہو گیا ہے اور تین بڑے بزنس گروپ پی آئی اے کو حاصل کرنے کے لیے میدان میں آئے ہیں۔
پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا جا رہا ہے اور نجکاری کمیشن کے تحت بولی دہندگان کے عمل میں تین کنسورشیم شامل ہیں۔ پہلا کنسورشیم لکی سیمنٹ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ، کوہاٹ سیمنٹ لمیٹڈ اور میٹرو وینچرز پر مشتمل ہے۔
دوسرا کنسورشیم عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی سکولز پرائیویٹ لمیٹڈ اور لیک سٹی ہولڈنگز لمیٹڈ پر مشتمل ہے، جبکہ تیسرے کنسورشیم میں ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ بولی کے عمل میں حصہ لے رہی ہے۔
بولی دہندگان کی طرف سے سیل شدہ بولیاں صبح ساڑھے دس بجے جمع کرائی گئی ہیں، اور پی آئی اے کی بولی کے لیے ریفرنس قیمت کی منظوری پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری دیں گے۔
دوپہر ساڑھے تین بجے شروع ہونے والی تقریب میں بولی دہندگان کی موجودگی میں بولیاں کھولی جائیں گی، تقریب میں بولیوں اور ریفرنس قیمت کا اعلان کیا جائے گا، اور نجکاری کا عمل طے شدہ ضوابط کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اےکی نجکاری کے لیے بولی آج لگائی جائے گی،تمام عمل براہِ راست نشر ہوگا
51 سے 100 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے پر خرچ ہوگا اور 7.5 فیصد قومی خزانے میں جائے گا۔
دوسری جانب بین الاقوامی آبزرورز پی آئی اے کی بولی کے عمل کو دیکھنے کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
مشیر نجکاری محمد علی نے بڈنگ کے پہلے مرحلے کے مکمل ہونے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “قومی ائیر لائن کی فروخت کے لیے بڈنگ کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، اب ہم پی سی بورڈ کے پاس جائیں گے۔ پی سی بورڈ قومی ایئرلائن ریزرو پرائس کو دیکھے گا۔ ریزرو پرائس کا کسی کو بھی نہیں پتہ، ریزرو پرائس بورڈ سے منظوری کے بعد کابینہ کمیٹی کے پاس جائے گی۔”
انہوں نے مزید کہا: “کابینہ کمیٹی ریزرو پرائس کے حوالے سے حتمی منظوری دے گی۔ یہ بہت بڑا مرحلہ ہے، 20 سال سے کوئی بڑی نجکاری نہیں ہوئی۔”
یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے کی ٹورنٹو میں عملے کی گمشدگی اور سیاسی پناہ کی خبروں کی تردید
ایوی ایشن ماہر تبسم پردیسی نے کہا: “پی آئی اے کی کامیاب نجکاری معیشت کے لیے اہم ہے، پاکستان کے بڑے بزنس گروپس کے پاس بزنس پلان موجود ہے۔”




