آٹھمقام، ٹمبرمافیا محکمہ کی ملی بھگت سے درختوں کا صفایا کرنے میں مصروف ، کوئی پوچھنے والا نہیں

مظفرآباد(مسعود الرحمن عباسی)آزادکشمیر سمیت پاکستان کو ایک طرف شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے اور زیادہ سے زیادہ شجرکاری کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے تو دوسری طرف اٹھمقام میں جنگلات کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے جنگل سے درختوں کی بے دریغ کٹائی جاری ہے۔

جنگلات کے رکھوالوں نے ہی ریاست میں ڈائن کا کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے جو سب کو کھانے کے بعد جب فاقہ کشی پر نوبت آتی تو اپنے بچوں کو بھی کھا جاتی ہے ۔

تحصیل آٹھمقام کی بانڈی رینج کھٹہ چوگلی کمپارٹ نمبر 2  میں تعینات محکمہ جنگلات کے افسران اور اہلکاروں نے  چند سکوں کی خاطر انتہائی قیمتی سبز درختوں کی کٹائی کی کھلی اجازت دے رکھی ہے ۔

وادی نیلم موجودہ دور میں ٹمبر مافیا کے لئے خزانے کی کنجی بنا ہوا ہے، پاکستان اور آزاد کشمیر بھر کی ٹمبر مافیا نے گرین گولڈ کی بلیک میں سمگلنگ اور غیر قانونی طور پر نیلم ویلی سے منتقلی پر ایکا کیا ہوا ہے،مجال ہے محکمہ جنگلات یا حکمران اس غیر قانونی جنگل کی کٹائی پر نوٹس لیں۔

محکمہ جنگلات کی حفاظت کے نام پر تنخواہیں لینے والےمقامی افسر اور اہلکار ان کے فرنٹ مین بن کر کام کررے ہیں جس سے ادارے کو تو نقصان ہو ہی رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ وادی نیلم اور ریاست کا مستقبل بھی دائو لگایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ آزادکشمیر میں درختوں کی بے دریغ کٹائی کے باعث شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہےاور رواں موسم سرما میں کم ہی برفباری اور بارشیں ریکارڈ کی گئیں ،حکومت کی طرف سے درختوں کی کٹائی پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود دھڑلے سے درختوں کی کٹائی کی جارہی ہے اور چینسہ کی مدد سے منٹوں میں  پورا درخت غائب کردیا جاتا ہے۔

محکمہ جنگلات کے حکام کو خواب غفلت سے جاگنا ہوگا اور ٹمبرمافیا کو کٹہرے میں لانا ہوگا ورنہ آنے والے نسلیں درختوں کے قتل عام کا خمیازہ بھگتیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: وادی نیلم میں ماحولیاتی تبدیلی: جنگلات کٹائی کی روک تھام ضروری

 

Scroll to Top